Pages

Friday, October 14, 2011

گیلپ سروے کی حقیقت اوراعجاز شفیع کی اصلیت

گیلپ پاکستان کے ایک سروے کے مطابق پاکستانی سیاسی قائدین میں شریف برادران مقبولیت میں سب سے آگے ہیں جبکہ مقبول ترین رہنماؤں میں عمران خان بھی شامل ہیں۔  اسی سروے میں ملک کے حقیقت میں انتہائی مقبول رہنماؤں کو مقبولیت کے اعتبار سے سب سے نیچے دکھایا گیا ہے۔
پاکستان کے اکثر پڑھے لکھے لوگوں کو بھی گیلپ کے بارے میں کچھہ زیادہ معلومات نہیں۔ گیلپ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو تجارتی بنبادوں پر کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنے کلائنٹس کیلئے رائے عامہ کا سروے کرتا ہے اور پھر ان نتائج کی بنیاد پر یہ ادارے اپنی کاروباری حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ ادارے اپنی مرضی کے نتائج بھی جاصل کرتے ہیں جو غیر حقیقی ہوتے ہیں ان نتائج کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ منفی طریقوں سے رائے عامہ کو گمراہ کرکے کاروباری منفعت حاصل کی جاسکے۔ چونکہ گیلپ ایک کمرشل ادارہ ہے اور سروے کیلئے انتہائی بھاری معاوضے طلب کرتا ہے اس لئے یہ اپنے کلائنٹ کی مرضی کے نتائج بھی تیار کردیتا ہے۔ دنیا بھر میں گیلپ سروے کو کچھہ نہ کچھہ اعتماد حاصل ہے تاہم پاکستان میں اس ادارے کا انتظام چلانے والوں نے اس کی لٹیا ڈبو دی ہے۔ اوراب یہ پاکستان کے اور بہت سے اداروں کی طرح عوام میں اپنا اعتماد کھو چکا ہے۔

انیس سو اسی میں قائم ہونے والے اس ادارے کے بانی ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی ایک مکمل طور پر سیاسی اور جانبدار شخصیت ہیں۔ انکی سیاسی وابستگی جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نواز کے ساتھہ رہی ہیں اور یہ وہ شخص ہیں جو نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں وزیر اعظم کے مشیر خاص رہے۔ انکے نواز لیگ سے تعلقات ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ کسی شخص کا کسی سیاسی جماعت یا شخصیت سے تعلق ہونا تو قابل اعتراض نہیں تاہم وہ ایک ایسا ادارہ چلائيں جس کی غیر جانبداری مسلمہ ہونا ضروری ہو تو یہ ایک قطعی ناقابل قبول بات ہوگی۔
درحقیقت پاکستان میں گیلپ کا ادارہ ایک خالص تجارتی ادارے کی طرح چلایا جارہا ہے اوروہ بدنام زمانہ کارپوریٹ کلچر جسکے خلاف آج امریکہ سمیت شدید مظاہرے ہو رہے ہیں یہاں بھرپور انداز میں کارفرما نظر آتا ہے۔ کارپوریٹ کلچر کی بنیاد یہی ہے کہ منافع دینے والا ہی آپ کا دوست ہے۔ نواز شریف اور خصوصا عمران خان اعجاز شفیع گیلانی کے ہائی پے انگ کلائنٹ ہیں اور گیلپ اپنے ان ہائی پے انگ کلائنٹ کی خدمت میں سرگرم عمل ہے۔ جس طرح تمام تجارتی ادارے اپنے خاص گاہکوں کو خصوصی خدمات فراہم کرتے ہیں اسی طرح گیلپ بھی اپنے ان گاہکوں کی خدمت کررہا ہے۔
درحقیقت گیلپ پاکستان ایک سروے مافیا ہے اور اعجاز شفیع گیلانی اس مافیا کے ڈان ہیں۔ اس مافیا کے سنڈ یکیٹ میں انصار عباسی، ڈاکٹر شاہد مسعود، عرفان صدیقی، ھارون الرشید، اور جاوید چوھدری جیسے صحافی شامل ہیں۔
گیلپ انٹرنیشنل کو اگر اپنی ساکھہ کا کچھہ خیال ہے تو اس مافیا کے ہاتھوں اپنے ادارے کو برباد ہونے سے بچالے اور ان لوگوں کو دیا گیا لائسنس منسوخ کردے۔

     

Tuesday, October 4, 2011

لوڈ شیڈنگ کیلئے کے ای ایس سی کا نیا حریہ

کے ای ایس سی نے کراچی کے شہریوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اب اپنے گھروں، دکانوں اور دفاتر میں خود لوڈ شیڈنگ کریں۔ گذشتہ جمعے سے وولٹیج میں مسلسل کمی بیشی اور ہر تین تا پانچ منٹ میں بجلی کی آمد ورفت نے شہریوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنے بجلی سے چلنے والے تمام آلات اور مشینیں بند کردیں۔  اور اسطرح خود ہی اپنے گھروں میں لوڈشیڈنگ کریں۔ کے ای ایس سی کی لالچی، بد عنوان اور بے شرمی پر کمر بستہ انتظامیہ اور اسکے سرپرست حکمرانوں نے اپنے ان گھٹیا حربوں سے کراچی کے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ کراچی کے عوام کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کرنے والے ان لوگوں نے مریضوں اور طلباء کے لئے ناقابل بیال مشکلات پیدا کردی ہیں۔ 

Sunday, September 25, 2011

خصوصی کورکمانڈرز کانفرنس

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیر صدارت خصوصی کورکمانڈرز کانفرنس جاری ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق کو خصوصی کو ر کمانڈرز کانفرنس میں ملک کی سیکیورٹی صورتحال کاجائزہ لیاجائے گا،اجلاس میں تمام کورکمانڈرز اور پرنسپل اسٹاف آفیسرز کی شریک ہیں۔

برنس روڈ کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن

کراچی کے مختلف علاقوں میں رینجرز،سی آئی ڈی اور پولیس کی جانب سے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اِس دوران متعدد افراد کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔ رات گئے برنس روڈ کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیس کی جانب سے سرچ آپریشن کیا گیا ،آپریشن کے دوران جوس سینٹر پر موجود ایک اہم ملزم کو بھی گرفتار کیا گیا ہے،جس کے بارے میں پویس کا دعویٰ ہے کہ اس نے دکانداروں سے بھتہ وصول کیا ہے اور وہ خود بھی اسی مارکیٹ کا دکاندار ہے،پولیس کی جانب سے سرچ آپریشن برنس روڈ گلی نمبر 6،سبزی والی گلی،ڈی جی سائنس کالج والی گلی کے رہائشی فلیٹس اور خالی گوداموں میں کیا گیا،اس دوران 4 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیاہے۔

Wednesday, July 20, 2011




آپکی پسندیدہ ویب سائٹ اب  نئے فیچرز کے ساتھہ دوبارہ آپکی خدمت میں پیش ہے۔ انتظار کا شکریہ