Pages

Wednesday, July 14, 2010

میڈیا اور سیاست - خورشید ندیم

میڈیا اور سیاست - خورشید ندیم
میڈ یا اور سیاست کا تعلق بیک وقت محبت اور نفرت کے رنگ لیے ہو ئے ہے۔دونوں کا ایک دوسرے کے بنا گزارا نہیں لیکن ایک ساتھ گزارا بھی آسان نہیں۔
اہل ِ سیاست کو تشہیر کی ضرورت ہو تی ہے۔وہ چا ہتے ہیں کہ ان کے بیانات اور تصاویر اخبارات کی زینت بنتے رہیں۔ان کا چہرہ ٹی وی سکرین پر نظر آتا رہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا سے ان کے تعلقات خوش گوار رہیں۔ دوسری طرف اہل ِصحافت بھی سیاست دانوں کے محتاج ہیں۔سیاست کے ایوانوں میں ہو نے والی پیش رفت،سیاسی فیصلوں کا پس منظر،بیانات میں چھپے بین السطور مطالب اور اندر کی خبر میسر نہ ہو تو صحافت چمکتی نہیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ صحافی سیاست دانوں سے تعلقات بنا ئے رکھیں۔ایک طرف کے لوگ دیوار کے دوسری طرف کھڑے لوگوں کی خبر دیتے ہیں اور اُس طرف والے اِس طرف والوںکی خبر دیتے ہیں۔اب صحافی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ کسی کوناراض نہ کرے ، خبر دیتا رہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ کسی کے خلاف خبر شائع ہو گی تو وہ را ضی کیسے رہے گا؟یہی مشکل ہے جس کے سبب یہ تعلق کبھی محبت پر استوار ہو تا ہے اور کبھی نفرت پر۔
کو ئی اس تعلق کو سمجھنا چا ہے تو شیخ رشید صاحب اور میڈیا کے تعلقات میں آنے والے اتار چڑھا ئو پر ایک نظر ڈالے۔شیخ صاحب کو مقبول بنانے میں اخبارات کا کر دار بنیا دی ہے۔ وہ اخبار کے ایڈیٹر سے لے کررپو رٹر اور نیوز ڈیسک پر بیٹھے ہر آ دمی کے ساتھ براہ راست تعلقات رکھتے تھے۔ان تعلقات میں بہت وسعت تھی۔اخبار میں تصویر کیسے شا ئع ہو،بیان دو کا لمی ہو یا تین کالمی،خبر کس صفحے پر لگے،ان کی خوا ہش ہو تی تھی کہ ان کا ہر کام حسب ِ خوا ہش ہو جا ئے۔ان کی یہ حکمت عملی فی الجملہ کا میاب رہی اور وہ لیڈر بن گئے۔یہ ان کا کمال تھا کہ وہ شورش کا شمیری سے لے کر شورش ملک تک،سب سے کام لے سکتے تھے۔لیکن جب وہ اقتدار تک پہنچے تو میڈیا کے ساتھ ان کے تعلقات میں سرد مہری اور پھر مخالفت نے جنم لیا۔اب ان کا کہنا ہے کہ وہ اگر ضمنی انتخابات میں ہارے ہیں تو اس کی وجہ میڈیا کی طرف سے ان کی مخالفت ہے۔میڈیا کی محبت نفرت میں بدلی اور یوں شیخ صاحب کی سیاست اپنے انجام کو پہنچی۔
گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں اراکینِ اسمبلی نے میڈیا کے خلاف جس غصے کا اظہار کیا،یہ بھی اسی پیچیدہ تعلق کا ایک اظہار تھا۔پرا ئیویٹ چینلز آئے تو ہر سیاست دان یہ خواہش رکھتا تھا کہ وہ ٹی وی سکرین کی زینت بنے۔ ٹاک شوز نے انہیں ایسا کھلو نا بنا دیا جس سے دن بھر کے تھکے ہارے لوگ دل بہلا نے لگے۔پہلے وہ ٹی وی ڈرامہ دیکھتے تھے،اب ٹاک شوز دیکھنے لگے۔پہلے تو سیاست دان یہ سمجھتے رہے کہ ان کی عزت افزائی ہو رہی ہے۔بہت دیر بعد انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو جگ ہنسائی تھی۔ایسے پروگرام جب مقبول ہو ئے تومزاح نگاروں اور مزاحیہ اداکاروں کی چا ندی ہو گئی۔جب دل بہلانا مقصود ٹھہرا ہوپھر تر جیح اُسی کی ہو گی جواس میدان میں بہتر کا رکادگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔یوں اینکر ز پر مزاحیہ اداکا روں کو فوقیت مل گئی۔سیاست میڈیا کے لیے با زیچہ اطفال بن گئی۔یہاں پگڑی کیا لباس کا کو ئی تار سلامت نہیں رہا۔نو بت یہاں تک پہنچی تو اہل ِ سیاست چیخ اٹھے۔پنجاب اسمبلی کے اراکین کی زبانی ہم نے جو کچھ سنا وہ یہی چیخ تھی۔تا دمِ تحریر معا ملہ یہاں تک پہنچا ہے،آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ؟ان لوگوں کی خد مت میں اب شعیب بن عزیز کا یہ مصرعہ ہی پیش کیا جا سکتا ہے کہ
اس طرح تو ہو تا ہے اس طرح کے کاموں میں
سچ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی سیاسی ادارے بن سکے ہیں نہ صحافتی۔دونوں ارتقائی مراحل طے کر رہے ہیں۔لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ قلم کی صحافت تو مدت سے جاری ہے۔ہمارے ہاں ایسے اخبارات بھی ہیں جن کی عمر پا کستان کی عمر سے زیادہ ہے۔کیا انہیں مزید ارتقا کی ضروت ہے؟ میرے پاس اس سوال کا جواب، اس کے سوا نہیں ہے کہ صحافت کو قوم کے اجتماعی اخلاقی اور سماجی ارتقا سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔جو اقدار ایک عام آدمی،ایک سیاست دان یا سرکاری ملازم کے لیے کو ئی اہمیت رکھتی ہیں،وہی اہل ِ صحافت کے لیے بھی اہم ہیں۔سیاست دانوں کو جب بھی صحافیوں پر
غصہ آئے،انہیں چا ہیے کہ اپنے گریبان میں جھانک لیا کریں۔ اس کے بعد شاید انہیں زیا دہ پر یشانی نہ ہو۔
دل کے بہلا نے کو یہ خیال برا نہیں کہ ہم ابھی ارتقائی مرا حل طے کر رہے ہیں لیکن معا ملے کی نو عیت شاید یہ نہیں ہے۔انسان کے ارتقائی سفر کا ایک حاصل یہ ہے کہ قوموں کی ترقی ادارہ سازی سے مشروط ہے۔ادارے مضبوط ہوں تو افراد کی کو تا ہیوں کا تدارک ممکن ہے۔اگر معا ملات افراد کے ہاتھوں میں رہیں گے تو پھر فرد کے مفاد کو تر جیح ہو گی۔وہ صحافی ہو یا سیاست دان، رویے میں کو ئی جو ہری فرق نہیں ہو گا۔ادارہ سازی کایہ کام صحافت کے ذمہ داران کو کر نا ہو گا اور اہل ِسیاست کو بھی۔جب تک یہ نہیں ہو گا ایک تماشہ لگا رہے گا۔میڈیا سیاست دانوں کی پگڑی اور ڈگری اچھالے گا اور وہ جواباً صحافیوں کی ڈگریوں کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ اسمبلیاں،ٹی وی چینلزاور اخبارات صرف گندے کپڑے دھونے کے گھاٹ بن جا ئیں گے۔اگر یہ ارتقا ہے تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا؟میں تو نہیں جا نتا کہ دھوبی گھاٹ کے بعد کیا ہوتا ہے۔ بشکریہ روزنامہ اوصاف

An Anthology of Modern Urdu Poetry: In English Translation, With Urdu Text (Mla Texts and Translations, 12) Masterpieces of Modern Urdu Poetry Ab-e hayat: Shaping the Canon of Urdu Poetry 


The Oxford Anthology of Modern Urdu Literature: Poetry and Prose Miscellany VOLUME 1 (Oxford India Collection)  My Temples, Too - A Novel My Friend, My Enemy: Essays, Reminiscences, Portraits

No comments:

Post a Comment