بی بی سی کے پروکرام
میں ایک الزام یہ لگایا گیا ہے کہ الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر الیکٹرانک
کمیونیکیشن کے ذریعے لوگوں کو تشدد پر اکساتے ہیں ۔ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا
جائے تو یہ کام الطاف حسین نے نہیں کیا بلکہ یہ کام تو بی بی سی نے کیا ہے کہ
الکٹرانک میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے، یعنی اپنے ٹی وی چینل پر ایک ایسا بے بنیاد
پروکرام پیش کیا جسکے نتیجے میں پاکستان میں ایک بڑا خلفشار پیدا ہوسکتا تھا اور
امن وامان کی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔ اگر یہ پروگرام حقائق پر مبنی ہوتا یا کم
از کم صحافت کے مروجہ اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے بھی تیار کیاگیا ہوتا تو یہ
الزام نہیں لگایا جاسکتا تھا ۔ لیکن بی بی سی جیسے مؤقر ابلاغی ادارے نے غیر ذمہ
داری کی انتہا کرتے ہوئے پروگرام میں بلا کسی قابل اعتماد ذرائع کے محض اخبارات
اور ٹی وی ریڈیو چینلز کی خبروں پر انحصار کیا اور ایک ایسی تنظیم اور اسکے قائد
کے خلاف انتہائی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی جسکے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں
کئی ملین حامی اور کارکنان ہیں اور جو اپنے لیڈر سے نہ صرف محبت بلکہ عقیدت رکھتے
ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ وہ ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ باشعور افراد
میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اگر انکے جذبات کو بھڑکانا ہی بی بی سی کا مقصد تھا تو اس
ادارے نے نہ حرف اپنی ساکھ کو دنیا بھر میں تباہ کردیا ہے بلکہ کراچی کے عوام کے دلوں سے بھی اپنی وقعت کو ختم
کردیا ہے ۔ یہ وہی کراچی کے عوام ہیں جو بی بی سی کو آل انڈیا ریڈیو، آکاش وانی
اور ڈیوچے ویلے پر ترجیح دیا کرتے تھے اور اسے زیادہ قابل اعتماد سمجھتے تھے ۔
Karachi's Political, Social, Academic, Sports, Commercial and Business Activities ھمارا کراچی اردو بلاگ۔ کراچی کی سیاسی، سماجی اورادبی سرگرمیوں کی رپورٹ
Tuesday, July 16, 2013
مہاجروں کیلئے ایک نئے صوبے کی ضرورت
اردو بولنے والوں یعنی مہاجروں کو نہ صرف سندھ میں بلکہ پورے پاکستان میں اپنے
سے کمتر سمجھا جاتا ہے ۔ اسکے ساتھ ہی انہیں انکی قابلیت کی وجہ سے اپنے لئے خطرہ
بھی سمجھا جاتا ہے ۔ انہیں اس قبائلی اور سرداری نظام کیلئے بھی خطرہ سمجھا جاتا
ہے جو صدیوں سے ان معاشروں پر مسلط ہے ۔ یہ تمام عوامل مل کر مہاجروں کیلئے تعصب
کا مظہر تشکیل دیتے ہیں ۔
اس صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ مہاجر صوبہ سندھ کی آبادی کا پچاس فیصد
سے زائد ہیں ۔ بین الاقوامی قوانین بھی اس مطالبے کی حمایت کریں گے کہ ایک ایسا
ملک جہاں صوبوں کی تشکیل زبانوں اور مقامی ثقافتوں کی بنیار پر ہوئی ہے وہاں
مہاجروں کو بھی ان کے لئے ایک صوبہ بنانے کا پورا حق ملنا چاہئے ۔ پاکستان میں نئے
صوبوں کیلئے مطالبات کوئی نئی بات نہیں ہیں ۔اور متحدہ قومی موومنٹ اس بنیاد پر
جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبوں کی حمایت کرتی رہی ہے کہ یہ وہاں کے عوام کا مطالبہ
ہے ۔ لہذا اب جبکہ صوبہ سندھ کے عوام کی غالب اکثریت اپنے لئے علیحدہ صوبے کا
مطالبہ کررہی ہے تو ایم کیو ایم کو اس مطالبے پر توجہ دینی چاہئے اور زیریں سندھ
یا جنوبی سندھ صوبے کا مطالبہ پوری قوت کے ساتھ کرنا چاہئے ۔ اور اس مطالبے کو
منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے ۔ شہری سندھ کے عوام کی تالیف قلب کی یہی واحد اور
موزوں ترین صورت ہے ۔
http://worldtopstyle.com
http://dailyfreepips.com
http://easygocanada.com
http://worldtopstyle.com
http://dailyfreepips.com
http://easygocanada.com
ذرائع ابلاغ کا ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے عناد کوئی نئی بات نہیں
جب سے ایم کیو ایم وجود
میں آئی ہے اسکے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جاتے رہے ہیں۔ اس عمل میں ذرائع ابلاغ
کا ایک گروہ آگے آگے رہا۔ ایم کیو ایم کے خبروں اور پریس ریلیز کا بایئکاٹ کیا
جاتا رہا اور جہاں مجبوری حارج ہوئی وہاں خبروں کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ افسوس
ناک بات یہ ہے کہ کراچی کے عوام سے ہی اربوں کی کمائی کرنے کے بعد انہی کی پیٹھہ
میں چھرا بھی گھونپا جاتا رہا ہے۔ کراچی میں ہی سب سے زیادہ اشاعت رکھنے والے
اخبارات میں روزنامہ جنگ بھی شامل ہے ۔
جنگ گروپ ھمیشہ سے ایم کیو ایم کے خلاف بغض و عناد کا مظاہرہ کرتا آیا ہے ۔ 1986 میں کراچی میں 8 اگست سے پہلےنشترپارک میں
مولانا نورانی مرحوم کا جلسہ ہوا تھا جس میں شائد چند ہزار افراد شریک تھے۔ اس
جلسے کی کوریج شہ سرخی میں کی گئی تھی ۔ 8 اگست کو کراچی کے نشتر پارک میں ایم کیو
ایم کا تاریخی جلسہ ہوا جس میں بلا مبالغہ لاکھوں افراد نے شرکت کی اور نا مساعد
موسم کے باوجود انتہائی نظم و ضبط سے جلسے کی کارروائی سنی ۔ یہ جلسہ نورانی صاحب
کے جلسے سے کئی گنا بڑا تھا مگریہ دیکھہ کر حیرت ہوئی کہ دوسرے روز کے جنگ میں اس کو وہ جائز مقام نہیں
دیا گیا جو اس کا حق تھا ۔ راقم کے دوست
جو اس وقت اس اخبار میں ایک اہم عہدے پر کام کررہے تھے ان سے جب استفسار کیا تو
انہوں نے رازداری کی شرط پر بتایا کہ اس کیلئے لیڈ یعنی شہہ سرخی تیار ہوئی تھی
لیکن انتظامیہ کے پاس فون آگیا کہ اس جلسے کی خبر کو ڈاؤن کر دیا جائے یعنی اسکی
اصل اہمیت کو گھٹا دیا جائے۔ اس ڈائریکٹیو کا سبب انہیں بھی نہیں پتہ تھا ۔ تاہم
راقم کو اسکا اچھی طرح پتہ تھا کہ اسکے پیچھے کیا سوچ کار فرما تھی ۔ 1978 میں اے
پی ایم ایس او بننے سے 1986تک جب یہ جلسہ ہوا اچھی طرح یاد ہے کہ اپنے کچھہ اور ساتھیوں کے ساتھہ کئی
بار اخبارات کے دفاتر جانا ہوتا تھا کہ وہاں اپنے پریس ریلیز اشاعت کیلئے دے سکیں
لیکن اول تو پریس ریلیز لینے ہی میں حیل حجت سے کام لیا جاتا اور لے بھی لی جاتی
تو اسکی اشاعت کی نوبت کبھی کبھار ہی آتی تھی اور اشاعت میں بھی اسکا تیا پانچہ کر
دیا جاتا ۔
Subscribe to:
Comments (Atom)