بی بی سی کے پروکرام
میں ایک الزام یہ لگایا گیا ہے کہ الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر الیکٹرانک
کمیونیکیشن کے ذریعے لوگوں کو تشدد پر اکساتے ہیں ۔ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا
جائے تو یہ کام الطاف حسین نے نہیں کیا بلکہ یہ کام تو بی بی سی نے کیا ہے کہ
الکٹرانک میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے، یعنی اپنے ٹی وی چینل پر ایک ایسا بے بنیاد
پروکرام پیش کیا جسکے نتیجے میں پاکستان میں ایک بڑا خلفشار پیدا ہوسکتا تھا اور
امن وامان کی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔ اگر یہ پروگرام حقائق پر مبنی ہوتا یا کم
از کم صحافت کے مروجہ اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے بھی تیار کیاگیا ہوتا تو یہ
الزام نہیں لگایا جاسکتا تھا ۔ لیکن بی بی سی جیسے مؤقر ابلاغی ادارے نے غیر ذمہ
داری کی انتہا کرتے ہوئے پروگرام میں بلا کسی قابل اعتماد ذرائع کے محض اخبارات
اور ٹی وی ریڈیو چینلز کی خبروں پر انحصار کیا اور ایک ایسی تنظیم اور اسکے قائد
کے خلاف انتہائی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی جسکے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں
کئی ملین حامی اور کارکنان ہیں اور جو اپنے لیڈر سے نہ صرف محبت بلکہ عقیدت رکھتے
ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ وہ ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ باشعور افراد
میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اگر انکے جذبات کو بھڑکانا ہی بی بی سی کا مقصد تھا تو اس
ادارے نے نہ حرف اپنی ساکھ کو دنیا بھر میں تباہ کردیا ہے بلکہ کراچی کے عوام کے دلوں سے بھی اپنی وقعت کو ختم
کردیا ہے ۔ یہ وہی کراچی کے عوام ہیں جو بی بی سی کو آل انڈیا ریڈیو، آکاش وانی
اور ڈیوچے ویلے پر ترجیح دیا کرتے تھے اور اسے زیادہ قابل اعتماد سمجھتے تھے ۔
No comments:
Post a Comment