جب سے ایم کیو ایم وجود
میں آئی ہے اسکے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جاتے رہے ہیں۔ اس عمل میں ذرائع ابلاغ
کا ایک گروہ آگے آگے رہا۔ ایم کیو ایم کے خبروں اور پریس ریلیز کا بایئکاٹ کیا
جاتا رہا اور جہاں مجبوری حارج ہوئی وہاں خبروں کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ افسوس
ناک بات یہ ہے کہ کراچی کے عوام سے ہی اربوں کی کمائی کرنے کے بعد انہی کی پیٹھہ
میں چھرا بھی گھونپا جاتا رہا ہے۔ کراچی میں ہی سب سے زیادہ اشاعت رکھنے والے
اخبارات میں روزنامہ جنگ بھی شامل ہے ۔
جنگ گروپ ھمیشہ سے ایم کیو ایم کے خلاف بغض و عناد کا مظاہرہ کرتا آیا ہے ۔ 1986 میں کراچی میں 8 اگست سے پہلےنشترپارک میں
مولانا نورانی مرحوم کا جلسہ ہوا تھا جس میں شائد چند ہزار افراد شریک تھے۔ اس
جلسے کی کوریج شہ سرخی میں کی گئی تھی ۔ 8 اگست کو کراچی کے نشتر پارک میں ایم کیو
ایم کا تاریخی جلسہ ہوا جس میں بلا مبالغہ لاکھوں افراد نے شرکت کی اور نا مساعد
موسم کے باوجود انتہائی نظم و ضبط سے جلسے کی کارروائی سنی ۔ یہ جلسہ نورانی صاحب
کے جلسے سے کئی گنا بڑا تھا مگریہ دیکھہ کر حیرت ہوئی کہ دوسرے روز کے جنگ میں اس کو وہ جائز مقام نہیں
دیا گیا جو اس کا حق تھا ۔ راقم کے دوست
جو اس وقت اس اخبار میں ایک اہم عہدے پر کام کررہے تھے ان سے جب استفسار کیا تو
انہوں نے رازداری کی شرط پر بتایا کہ اس کیلئے لیڈ یعنی شہہ سرخی تیار ہوئی تھی
لیکن انتظامیہ کے پاس فون آگیا کہ اس جلسے کی خبر کو ڈاؤن کر دیا جائے یعنی اسکی
اصل اہمیت کو گھٹا دیا جائے۔ اس ڈائریکٹیو کا سبب انہیں بھی نہیں پتہ تھا ۔ تاہم
راقم کو اسکا اچھی طرح پتہ تھا کہ اسکے پیچھے کیا سوچ کار فرما تھی ۔ 1978 میں اے
پی ایم ایس او بننے سے 1986تک جب یہ جلسہ ہوا اچھی طرح یاد ہے کہ اپنے کچھہ اور ساتھیوں کے ساتھہ کئی
بار اخبارات کے دفاتر جانا ہوتا تھا کہ وہاں اپنے پریس ریلیز اشاعت کیلئے دے سکیں
لیکن اول تو پریس ریلیز لینے ہی میں حیل حجت سے کام لیا جاتا اور لے بھی لی جاتی
تو اسکی اشاعت کی نوبت کبھی کبھار ہی آتی تھی اور اشاعت میں بھی اسکا تیا پانچہ کر
دیا جاتا ۔
No comments:
Post a Comment