Pages

Wednesday, January 15, 2014

سندھ پولیس میں تقرریوں اور تبادلوں پر رینجرز کے تحفظات اور چوھدری اسلم کیس۔ الطاف حسین کا اظہار تشویش

اطلاعات کے مطابق  ڈی جی سندھ رینجرز نے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور سندھ پولیس میں تقرریوں اور تبادلوں پرتحفظات کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ ہاوٴس کراچی میں ڈی جی سندھ رینجرز نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات میں   ڈی جی رینجرز نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے کراچی پولیس میں ہونے والی تقرریوں اور تبادلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
دوسری طرف ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے  ان اخباری اطلاعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جو ذرائع ابلاغ میں شائع ونشر ہورہی ہیں کہ حکومت سندھ  کی جانب سے پولیس میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی تبدیلیوں پر حکومت سندھ اور رینجرز اور رینجرز کے ڈی جی میجر جرنل رضوان اختر کے مابین سخت قسم کی غلط فہمیوں اور ناچاقیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ چوہدری اسلم کی شہادت کے بعد بعض قومی اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ چوہدری اسلم کا قتل بعض اداروں کی آپس کی چپقلش کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چوہدری اسلم اور ان کے دیگرساتھیوں کی شہادت اور زخمی ہونیوالوں کی تحقیقات حکومت سندھ اور رینجرز مل کر بھر پور طریقے سے کرتے تاکہ چوہدری اسلم کے قتل کی اصل وجوہات اور اس کے پیچھے کار فرما ہاتھوں کو پکڑ کر انہیں گرفتار کیا جاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ چوہدری اسلم کی شہادت کے پیچھے دہشت گردوں سمیت اگر اندرونی ہاتھ بھی کارفرما تھے تو انکو بھی بے نقاب کیا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ چوہدری اسلم اوردیگر پولیس والوں کے قتل پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کی غرض سے سندھ میں پولیس کی تبادلوں اور رینجرز کے اعلیٰ افسران کی ناراضگی کا مسئلہ چھیڑا گیا ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے چوہدری اسلم اور انکے ساتھیوں کے قتل کی تحقیقات پسِ پردہ چلی گئی ہے اوراس طرح عوام کا ذہن چوہدری اسلم کی شہادت سے ہٹا کر دوسری طرف لگانے کی سازش کی گئی ہے ۔
جناب الطاف حسین نے چوہدری اسلم شہید اوران کے شہید ساتھیوں کے تمام پرخلوص اور دیرینہ پولیس کے افسران اور سپاہی ساتھیوں سے پرزور اپیل بھی کی  کہ وہ چوہدری اسلم شہید جنہیں ایک سازشی منصوبہ کے تحت قتل کیا گیا اور ان کے ساتھیوں کے سفاکانہ قتل کے اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کے لئے جو نئی نئی سازشیں کی جارہی ہے اس کو خدارا وہ سمجھیں اور چوہدری اسلم سمیت اپنے ساتھیوں کے خون پر پردہ ڈالنے کی سازش کو ناکام بنانے میں اپنا اپنا بھرپور کردار اپنے ضمیر کے مطابق ادا کریں۔

ڈاکٹر عطا ءالرحمان صاحب کا کالم ۔ مشرف کیا ہم بھول گئے


ڈاکٹر عطاء الرحمن ہمارے ملک کے ایک مایہ ناز سایئنسدان ہیں جنکی قابلیت کا ایک زمانہ معترف ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے تبحر علمی کا اندازہ لگانا ہی ایک مشکل کام ہے ۔ دنیا بھر کے تمام اعلی تعلیمی اداروں میں انکی کئی کتابیں نصاب کا حصہ ہیں اور اب تک انکے سینکڑوں کی تعداد میں تحقیقی مقالے دنیا بھر کے انتہائی مؤقر سایئنسی جریدوں میں شائع ہوچکے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب پرویز مشرف دور میں سایئنس وٹیکنالوجی کے وزیر بھی رہے اور اعلی تعلیمی کمیشن کے بھی چئرمین کی حیثیت سے بھی کام کیا ۔ پرویز مشرف کے دور کو پاکستانی معیشت کا دور زریں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا ۔ اس دور میں ملک نے معاشی و تعلیمی میدانوں میں بے انتہا ترقی کی اور بین الاقوامی برادری میں ہمارا  بھی ان ملکوں میں شمار ہونے لگا جو تیز رفتار ترقی کررہے تھے  اور جن کا مستقبل انتہائی روشن نظر آنے لگا تھا۔ افسوس کہ جاگیر داری، سرداری، وڈیرانہ اور قبائلی نظام کے محافظ ایکشن میں آئے اور پھر سب کچھ ملیا میٹ ہوگیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک خواب تھا جو دیکھا اور پھر آنکھ کھل گئی۔

ڈاکٹر صاحب نے گذشتہ ہفتے جنگ اخبار میں ایک کالم لکھا تھا جس میں پرویز مشرف دور کی معاشی و تعلیمی ترقی کا  جائزہ لیا گیا تھا۔ اس مضمون کو بڑی پذیرائی حاصل ہوئی جو استحصالی نظام کے پروردہ کچھ نام نہاد قلم کاروں کو انتہائی گراں گذری ۔ ایسے لوگ جو اپنے آپ کوقلم کار کہتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ قلم فروش ہیں ڈاکٹر صاحب کے خلاف اور پرویز مشرف کے بغض وعداوت میں سامنے آگے اور انتہائی جاہلانہ اور تعصبانہ تنقید پر مبنی مضامین لکھے جانے لگے ۔

ڈاکٹر عطا الرحمان صاحب پر تنقید کرنے والے تعصب اور نفرت میں اتنے آگے جاچکے ہیں کہ انہیں اپنے عقلی و ذھنی نابینا پن کا احساس بھی نہیں رہا ۔ مشرف صاحب سے انکی نفرت کا اظہار انکی تحریر سے ہی ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ پرویز مشرف کیلئے جو انداز تخاطب اپناتے ہیں اس سے کوئی بھی شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ انہیں پاکستان کو بام عروج تک لیجانے والے پرویز مشرف سے کس قدر نفرت ہے اور اگر کوئی پرویز مشرف کی تعریف کرے یا انکے لئے تحسین آمیز الفاظ استعمال کرے جسکے وہ  درحقیقت مستحق ہیں تو انکے منہ سے جھاگ نکلنے لگتے ہیں اور تیوریاں چڑھ جاتی ہیں یہاں تک کہ اس شخص کی قد آور مور تسلیم شدہ حیثیت کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں ۔ یہ پستہ قد لوگ اپنے قد بڑھانے کیلئے اپنے سے بڑوں پر تنقید کرتے ہیں اور اس طرح اپنی روزی کماتے ہیں بنا یہ سوچے کہ یہ حرام ہے یا حلال ۔ ایسا ہی ایک بونا یاسر پیرزادہ ہے جس نے اتوار کو اپنے اندرونی زہر کو اگلا اور ایک روؤف طاہر ہے جو آج اپنے اندر کی گند کو باہر نکال رہا ہے ۔ عرفان صدیقی اور انصارعباسی بھی ایسے ہی ذہنی مریضوں میں شامل ہیں جنہیں ایک لاعلاج نفسیاتی بیماری مشرف فوبیا لاحق ہوچکی ہے ۔
جنگ گروپ بھی پرویز مشرف کے خلاف اپنے بغض وعناد کا بھرپور مظاہرہ کررہا ہے۔ یہ اخبار کمینٹس کے نام پر ویب سائٹ پر ڈرامہ کرتا ہے ۔ مخالفانہ کمنٹس اس نے اپنی ویب سائٹ پر کبھی نہیں شائع کئے ۔