ڈاکٹر عطاء الرحمن ہمارے ملک کے ایک مایہ ناز سایئنسدان ہیں جنکی قابلیت کا ایک زمانہ معترف ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے تبحر علمی کا اندازہ لگانا ہی ایک مشکل کام ہے ۔ دنیا بھر کے تمام اعلی تعلیمی اداروں میں انکی کئی کتابیں نصاب کا حصہ ہیں اور اب تک انکے سینکڑوں کی تعداد میں تحقیقی مقالے دنیا بھر کے انتہائی مؤقر سایئنسی جریدوں میں شائع ہوچکے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب پرویز مشرف دور میں سایئنس وٹیکنالوجی کے وزیر بھی رہے اور اعلی تعلیمی کمیشن کے بھی چئرمین کی حیثیت سے بھی کام کیا ۔ پرویز مشرف کے دور کو پاکستانی معیشت کا دور زریں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا ۔ اس دور میں ملک نے معاشی و تعلیمی میدانوں میں بے انتہا ترقی کی اور بین الاقوامی برادری میں ہمارا بھی ان ملکوں میں شمار ہونے لگا جو تیز رفتار ترقی کررہے تھے اور جن کا مستقبل انتہائی روشن نظر آنے لگا تھا۔ افسوس کہ جاگیر داری، سرداری، وڈیرانہ اور قبائلی نظام کے محافظ ایکشن میں آئے اور پھر سب کچھ ملیا میٹ ہوگیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک خواب تھا جو دیکھا اور پھر آنکھ کھل گئی۔
ڈاکٹر صاحب نے گذشتہ ہفتے جنگ اخبار میں ایک کالم لکھا تھا جس میں پرویز مشرف دور کی معاشی و تعلیمی ترقی کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس مضمون کو بڑی پذیرائی حاصل ہوئی جو استحصالی نظام کے پروردہ کچھ نام نہاد قلم کاروں کو انتہائی گراں گذری ۔ ایسے لوگ جو اپنے آپ کوقلم کار کہتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ قلم فروش ہیں ڈاکٹر صاحب کے خلاف اور پرویز مشرف کے بغض وعداوت میں سامنے آگے اور انتہائی جاہلانہ اور تعصبانہ تنقید پر مبنی مضامین لکھے جانے لگے ۔
ڈاکٹر عطا الرحمان صاحب پر تنقید کرنے والے تعصب اور نفرت میں اتنے آگے جاچکے ہیں کہ انہیں اپنے عقلی و ذھنی نابینا پن کا احساس بھی نہیں رہا ۔ مشرف صاحب سے انکی نفرت کا اظہار انکی تحریر سے ہی ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ پرویز مشرف کیلئے جو انداز تخاطب اپناتے ہیں اس سے کوئی بھی شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ انہیں پاکستان کو بام عروج تک لیجانے والے پرویز مشرف سے کس قدر نفرت ہے اور اگر کوئی پرویز مشرف کی تعریف کرے یا انکے لئے تحسین آمیز الفاظ استعمال کرے جسکے وہ درحقیقت مستحق ہیں تو انکے منہ سے جھاگ نکلنے لگتے ہیں اور تیوریاں چڑھ جاتی ہیں یہاں تک کہ اس شخص کی قد آور مور تسلیم شدہ حیثیت کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں ۔ یہ پستہ قد لوگ اپنے قد بڑھانے کیلئے اپنے سے بڑوں پر تنقید کرتے ہیں اور اس طرح اپنی روزی کماتے ہیں بنا یہ سوچے کہ یہ حرام ہے یا حلال ۔ ایسا ہی ایک بونا یاسر پیرزادہ ہے جس نے اتوار کو اپنے اندرونی زہر کو اگلا اور ایک روؤف طاہر ہے جو آج اپنے اندر کی گند کو باہر نکال رہا ہے ۔ عرفان صدیقی اور انصارعباسی بھی ایسے ہی ذہنی مریضوں میں شامل ہیں جنہیں ایک لاعلاج نفسیاتی بیماری مشرف فوبیا لاحق ہوچکی ہے ۔

No comments:
Post a Comment