اطلاعات کے مطابق ڈی
جی سندھ رینجرز نے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور سندھ پولیس میں تقرریوں اور
تبادلوں پرتحفظات کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ ہاوٴس کراچی میں ڈی جی سندھ رینجرز نے
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات میں ڈی جی رینجرز نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی
شاہ سے کراچی پولیس میں ہونے والی تقرریوں اور تبادلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
دوسری طرف ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے ان اخباری اطلاعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا
ہے جو ذرائع ابلاغ میں شائع ونشر ہورہی ہیں کہ حکومت سندھ کی جانب سے پولیس میں بڑے پیمانے پر کی جانے
والی تبدیلیوں پر حکومت سندھ اور رینجرز اور رینجرز کے ڈی جی میجر جرنل رضوان اختر
کے مابین سخت قسم کی غلط فہمیوں اور ناچاقیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جناب الطاف
حسین نے کہا کہ چوہدری اسلم کی شہادت کے بعد بعض قومی اخبارات میں یہ خبریں بھی
شائع ہوئی تھیں کہ چوہدری اسلم کا قتل بعض اداروں کی آپس کی چپقلش کا نتیجہ بھی ہو
سکتی ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چوہدری اسلم اور ان کے
دیگرساتھیوں کی شہادت اور زخمی ہونیوالوں کی تحقیقات حکومت سندھ اور رینجرز مل کر
بھر پور طریقے سے کرتے تاکہ چوہدری اسلم کے قتل کی اصل وجوہات اور اس کے پیچھے کار
فرما ہاتھوں کو پکڑ کر انہیں گرفتار کیا جاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ چوہدری
اسلم کی شہادت کے پیچھے دہشت گردوں سمیت اگر اندرونی ہاتھ بھی کارفرما تھے تو انکو
بھی بے نقاب کیا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ چوہدری اسلم اوردیگر پولیس
والوں کے قتل پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کی غرض سے سندھ میں پولیس کی تبادلوں اور
رینجرز کے اعلیٰ افسران کی ناراضگی کا مسئلہ چھیڑا گیا ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے
چوہدری اسلم اور انکے ساتھیوں کے قتل کی تحقیقات پسِ پردہ چلی گئی ہے اوراس طرح
عوام کا ذہن چوہدری اسلم کی شہادت سے ہٹا کر دوسری طرف لگانے کی سازش کی گئی ہے ۔
جناب الطاف حسین نے چوہدری اسلم شہید اوران کے شہید
ساتھیوں کے تمام پرخلوص اور دیرینہ پولیس کے افسران اور سپاہی ساتھیوں سے پرزور
اپیل بھی کی کہ وہ چوہدری اسلم شہید جنہیں
ایک سازشی منصوبہ کے تحت قتل کیا گیا اور ان کے ساتھیوں کے سفاکانہ قتل کے اصل
حقائق سے توجہ ہٹانے کے لئے جو نئی نئی سازشیں کی جارہی ہے اس کو خدارا وہ سمجھیں
اور چوہدری اسلم سمیت اپنے ساتھیوں کے خون پر پردہ ڈالنے کی سازش کو ناکام بنانے
میں اپنا اپنا بھرپور کردار اپنے ضمیر کے مطابق ادا کریں۔
No comments:
Post a Comment