حقوق انسانی کی علمبردار اور معروف ماہر قانون محترمہ عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ جیو چینل اور سابق چیف جسٹس کے درمیان گٹھ جوڑ ہو چکا تھا کہ جیو کے خلاف کوئی دعوی دائر نہیں کر سکتا تھا
یہ ایک انتہائی سنگین الزام ہے اور یہ الزام لگانے والی کوئی معمولی شخصیت نہیں بلکہ ملک کی ایک بہت بڑی قانون داں ہیں جو قانون کی باریکیوں کو خوب جانتی ہیں
کیا سابق چیف جسٹس کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جانا چاہئے کہ اس نے اس وقت قانون کو مذاق بنایا جب وہ انصاف کی سب سے اونچی مسند پر بیٹھا فراہمئ انصاف کے دعوے کرتا رہتا تھا
اگر عاصمہ جہانگیر غلط ہیں تو انہیں سزا دی جائے اور اگر سابق چیف جسٹس گناہگارہے تو اسے بھی قانون میں موجود کڑی سے کڑی سزا دی جائے کیونکہ قانون سابق آرمی چیف کیلئے ہی نہیں سابق جوڈیشئل چیف کیلئے بھی برابر ہے
اس کے ساتھ ہی جیو اور جنگ گروپ کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی کی جائے کہ اس نے عدل و انصاف کو خرید کر اپنے گھر کی لونڈی بنانے کی کوشش کی
یہ ایک انتہائی سنگین الزام ہے اور یہ الزام لگانے والی کوئی معمولی شخصیت نہیں بلکہ ملک کی ایک بہت بڑی قانون داں ہیں جو قانون کی باریکیوں کو خوب جانتی ہیں
کیا سابق چیف جسٹس کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جانا چاہئے کہ اس نے اس وقت قانون کو مذاق بنایا جب وہ انصاف کی سب سے اونچی مسند پر بیٹھا فراہمئ انصاف کے دعوے کرتا رہتا تھا
اگر عاصمہ جہانگیر غلط ہیں تو انہیں سزا دی جائے اور اگر سابق چیف جسٹس گناہگارہے تو اسے بھی قانون میں موجود کڑی سے کڑی سزا دی جائے کیونکہ قانون سابق آرمی چیف کیلئے ہی نہیں سابق جوڈیشئل چیف کیلئے بھی برابر ہے
اس کے ساتھ ہی جیو اور جنگ گروپ کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی کی جائے کہ اس نے عدل و انصاف کو خرید کر اپنے گھر کی لونڈی بنانے کی کوشش کی

No comments:
Post a Comment