Pages

Monday, May 31, 2010

MQM IN PUNJAB

The MQM’s convention across central and southern Punjab is a welcome development. One hopes that it can someday liberate the country’s most populous province from the yokes of feudal and industrial exploiters.

The social development record of the MQM remains exceptional. The network of flyovers and other infrastructure in Karachi speaks for itself. The party does not have loan defaulters, fake degree holders or kinfolk of party leadership sitting in the two houses.

The feudal system and industrial/commercial cartels are conjoined in politics like Siamese twins. One is reminded of the duo that ran Punjab affairs for eight long years (Source: Dawn/ www.newslinekarachi.com)
Karachi: Megacity of Our Times
Samsung Strive A687 Phone, Purple (AT&T)

معرکۂ کارگل پربھارتی آرمی کمانڈرکا بیان: پرویزمشرف کے مؤقف کی جیت

معرکۂ کارگل پربھارتی آرمی کمانڈرکا بیان: پرویزمشرف کے مؤقف کی جیت
By: Zubair Ahmed Madani
معرکۂ کارگل میں بھارتی فوج کے فارمیشن کمانڈرجنرل کشن پال نے آخرکار یہ اعتراف کرلیا ہے کہ بھارتی فوج کواس جنگ میں حربی، سیاسی اورسفارتی محاذ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ کارگل کی جنگ کے گیارہ سال بعد اس اعتراف کی اہمیت بھارتی نقطۂ نظرسے اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی کہ پاکستان کے نقطۂ نظر سے ہے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف تواترکے ساتھہ یہ بیانات د‏یتے رہے کہ کارگل کی جنگ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ملک پرمسلط کی تھی اوراسکے لئے وزیراعظم سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا، اوروہ یہ تاثربھی دیتے رہے کہ پاکستان یہ جنگ پرویز مشرف کی ناقص جنگی حکمت عملی کی وجہ سے ہار گیا۔ میاں صاحب ایسا اسلئے کرتے رہے کہ وہ پرویز مشرف سے عناد رکھتے تھے اوراس عناد کی وجہ یہ تھی کہ پرویز مشرف نے میاں صاحب کی بدعنوانیوں کی وجہ سے انہیں معزول کرکے اقتدار سنبھالا تھا۔

اب جبکہ خود بھارتی فوج نے اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ اسے اس جنگ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تو میاں نواز شریف کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ اعلانیہ اپنے پچھلے بیانات سے رجوع کریں۔ پچھلے کئی سالوں میں میاں صاحب اورانکے حامی صحافی جنرل پرویز مشرف کیلئے انتہائی بری اوراخلاق سے عاری زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ کوئی انہیں طبلچی لکھتا ہے توکوئی انتہائی رکیک تہمتیں ان پر لگاتا ہے۔ اکثراخبارات افواج پاکستان کے سپہ سالارکیلئے توتکاروالی زبان استعمال کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ انکے سید ہونے کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے اورانسے منسوب کرکے جھوٹے واقعات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے ہے جیسے راوی خود وہاں موجود رہا ہو۔ یہ پرویز مشرف کی اعلی ظرفی ہے کہ وہ اس بیہودہ گوئی کا جواب نہیں دیتے۔ بجیثیت آرمی چیف وہ بہت سی ایسی باتوں سے واقف تھے جو اگر وہ بیان کردیں تو الزام لگانے والے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں۔

بھارتی فوج کی جانب سے اعتراف شکست کے بعد ایک بات واضح ہوگئی کہ پرویزمشرف وہ پہلے اورواحد پاکستانی سپہ سالار تھے جنہوں نے بھارتی فوجی طاقت کو سرنگوں کیا اور اسطرح کہ خود دشمن بھی اسکا اعتراف کرنے پر مجبورہوا۔ ورنہ تو اس بات پر سب متفق ہیں کہ کارگل سے پہلے تک کی تمام جنگوں میں پاکستان ہی کوحزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ افوج پاکستان نے انکے اس عظیم الشان کارنامے کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایک ھیرو کی طرح رخصت کیا جس پر بہت سے ملک دشمنوں کوبڑا اعتراض ہے۔
In the Line of Fire - A Memoir by Pervez Musharraf (Urdu Language Edition)
دشمن کی فوجی طاقت کو شکست دینے کے ساتھہ ہی پرویزمشرف نے بحیثیت سربراہ مملکت پاکستان کیلئے جو کچھہ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ملک کی معیشت کوانہوں نے جسطرح ترقی دی اسکی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی گری ہوئی ساکھہ کونہ صرف بحال کیا بلکہ پاکستان کوایک بلند مقام پر لا کھڑا کیا جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ افسوس کہ ملک دشمنوں کی سازشیں عین اس وقت کامیاب ہوئیں جب پاکستانی معیشت ٹیک آف کی پوزیشن میں آچکی تھی۔
Pervez Musharraf Pakistan's Drift Into Extremism: Allah, then Army, and America's War Terror
اگرمیاں نواز شریف اورانکے حمایتی صحافیوں میں شرم وحیا کی کوئی رمق باقی ہے توانہیں چاھئے کہ اپنی تمام خطاؤں پرعلی الاعلان معافی مانگیں، یہی انکے ظرف کا امتحان ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں پورے اترتے ہیں توہی اپنے آپ کوقومی لیڈ‏رکہلا سکیں گے۔ جہاں تک پرویزمشرف کے خلاف ھرزہ سرائی کرنے والے صحافیوں کا تعلق ہے تووہ کبھی درست نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ جینیاتی تبدیلیاں عمومی حالات میں واقع نہیں ہوا کرتیں۔

Saturday, May 29, 2010

Business immigration has a positive impact on British Columbia, CANADA

Business immigration has a positive impact on British Columbia
Business immigration programs are being praised for their success in the beautiful province of British Columbia (BC), as more and more new Canadians are making an impact on BC’s economy while enjoying the province’s high quality of life.

Since 2002, business immigration programs have been responsible for more than $603-million in investment in the province, as well as the creation of more than 2500 new jobs. However, it is not only the province that is benefitting from business immigration. Business immigrants extol the virtues of living in Canada’s gateway to the Pacific.

Business immigrants choose to settle in BC for a number of reasons. The province and its most well-know cities, Vancouver and Victoria, consistently appear at or near the top of the rankings in studies or surveys of the best places to live in the world. In addition, the province is home to the University of British Columbia, a respected university that the children of business immigrants frequently attend.

“The economy has some influence, but in the [business] class, quality of life is a consideration that’s equally important,” said Moira Stilwell, BC’s Advanced Education and Labour Development Minister.

There are numerous ways to immigrate to British Columbia as a businessperson:
The Immigrant Investor Program is a federal immigration program for individuals who have a high net worth and business experience.
The Immigrant Entrepreneur Program allows individuals who plan to start or purchase a business in Canada to immigrate and implement their business plan.
The British Columbia Nominee Program also has a business component with a number of requirements applicants must fulfill.
Food of Canada - Buyers Directory & Services Index
Vegetarian Journal's Guide to Natural Foods Restaurants in the U.s. And Canada
Baby Bodysuit White " Canadian Food Makes Canadian Poo ! " Canada Country 9 - 12 Months

Wednesday, May 26, 2010

Saturday, May 8, 2010

حیدرآباد کے حوالہ سے وزیراعظم کے بیان سے لاکھوں شہریوں کی دل شکنی ہوئی، الطاف حسین



ہفتہ, 08 مئی 2010
کراچی- متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنماء اور وزراءاشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان اتحاد کی فضا خراب کرنا چاہتے ہیں۔ حیدرآباد کے حوالہ سے وزیراعظم کے بیان سے لاکھوں شہریوں کی دل شکنی ہوئی ہے لیکن حیدرآباد کے عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں ، وزیراعظم اپنی حلیف جماعت کو اعتماد میں لئے بغیر سندھ کے حوالہ سے کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے گریز کریں۔

الطاف حسین نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے جمہوریت کے نام پر اپیل کی کہ وہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنماوں اور وزراءکی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا فوری نوٹس لیں اور پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان اتحاد ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنائیں۔

یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پررابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرز ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العبادخان، وفاقی وزیربابر خان غوری، صوبائی وزیرعادل صدیقی اور رکن قومی اسمبلی وسیم اختر بھی موجود تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے پاکستان بھر کے جمہوریت پسند اور محب وطن عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم نے ہرمشکل اورآزمائش کی گھڑی میں جمہوریت کی بقاءکیلئے غیرمشروط طور پر حکومت کا ساتھ دیا، اس دوران حکومت کے بعض رہنماءاور وزراءنے اشتعال انگیز بیانات دیئے جس پر ایم کیوایم کے کارکنان کو صبر کی تلقین کی گئی اور جواب میں اشتعال انگیز بیان نہیں دیا گیا۔اب عوام خود فیصلہ کریں کہ حکومت میں شامل رہ کر ایم کیوایم نے کتنا صبر کیا ہے اور اشتعال انگیزی کے باوجود کارکنان کو صبر وتحمل سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم جمہوریت پسند جماعت ہے اور چاہتی ہے کہ حکومت اپنی جمہوری مدت پوری کرے لیکن پیپلزپارٹی کے بعض رہنماءاور وزراءنہیں چاہتے کہ ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کااتحاد برقرار رہے اور ان کی جانب سے اشتعال انگیزبیانات کے ذریعہ اس اتحاد کو توڑنے کی بارہا کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم نے صوبہ خیبر پختونخوا ، ہزاروال، بہاولنگر اورجنوبی پنجاب کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا، صوبہ ہزارہ، صوبہ بہاولنگر اور سرائیکی صوبہ کی حمایت کا اعلان کیاہے ۔ ایم کیوایم نے سندھ کی تقسیم یا کراچی صوبہ کی کوئی بات نہیں کی لیکن حکومت کے بعض وزراءاور ایجنسیوں کے پے رول پر کام کرنے والے نام نہاد قوم پرستوںکی جانب سے واویلا مچایا گیاکہ ایم کیوایم سندھ کی تقسیم چاہتی ہے۔

الطاف حسین نے سندھ کے دانشوروں ، کالم نگاروں ، صحافیوں اور زندگی کے دیگر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم اور سندھ کے امن پسند عوام کی کوششوں سے صوبے میں امن وامان کی فضاءقائم ہے جسے سبوتاژ کرنے کیلئے صرف نام نہاد قوم پرست ہی سازش نہیں کررہے بلکہ اس سازش میںپیپلزپارٹی کے بعض وزراءبھی شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ سندھ میں شہری اور دیہی تفریق کرکے بھائی چارے کی فضاءکو تباہ کیا جائے۔

انہوںنے مزید کہاکہ سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان اتحاد ویکجہتی کی فضاءجاگیرداروں اوروڈیروں کو ایک آنکھ نہیں بھارہی ہے اور وہ سندھ میں سندھی مہاجر فسادات کی سازشیں کررہے ہیں لیکن سندھ کے عوام اپنے اتحاد سے ایسی ہرسازش کو ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین سندھ دھرتی کا بیٹا ہے اور سندھ دھرتی سے غداری نہیں کرے گااور ایم کیوایم سندھ کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتی رہے گی۔

الطاف حسین نے حیدرآباد کے حوالہ سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کے بیان سے حیدرآباد کے لاکھوں شہریوں کی دل آزاری ہوئی ہے لیکن حیدرآباد کے عوام خود کو ہرگز تنہا نہ سمجھیں ۔ الطاف حسین نے جمہوریت کے نام پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے اپیل اپیل کی کہ ایم کیوایم ان کی حلیف جماعت ہے لہٰذا وہ اپنی حلیف جماعت کے رہنماوں کو اعتمادمیں لئے  بغیر سندھ کے حوالہ سے کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے گریز کریں اسی میں جمہوریت کی بھلائی ہے۔

الطاف حسین نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے بعض رہنماوں اور وزراءکی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا فوری نوٹس لیں اور پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان اتحاد ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنائیں تاکہ ملک میں جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے۔

الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ متحد رہیں ، اپنے اتحاد کو مزید مضبوط بنائیں انشاءاللہ ایم کیوایم ، جاگیرداروں ،ملک کی دولت لوٹنے والوں اور سرکاری بنکوں سے اربوں کھربوں روپے قرض لیکر معاف کرانے والے وڈیروں کو ان کی جاگیروں سے نکال کر وہاں اسکول ، کالج اور اسپتال تعمیر کرے گی اور ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کا انقلاب لائے گی۔