ہفتہ, 08 مئی 2010
کراچی- متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنماء اور وزراءاشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان اتحاد کی فضا خراب کرنا چاہتے ہیں۔ حیدرآباد کے حوالہ سے وزیراعظم کے بیان سے لاکھوں شہریوں کی دل شکنی ہوئی ہے لیکن حیدرآباد کے عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں ، وزیراعظم اپنی حلیف جماعت کو اعتماد میں لئے بغیر سندھ کے حوالہ سے کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے گریز کریں۔
الطاف حسین نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے جمہوریت کے نام پر اپیل کی کہ وہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنماوں اور وزراءکی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا فوری نوٹس لیں اور پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان اتحاد ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنائیں۔
یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پررابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرز ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العبادخان، وفاقی وزیربابر خان غوری، صوبائی وزیرعادل صدیقی اور رکن قومی اسمبلی وسیم اختر بھی موجود تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے پاکستان بھر کے جمہوریت پسند اور محب وطن عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم نے ہرمشکل اورآزمائش کی گھڑی میں جمہوریت کی بقاءکیلئے غیرمشروط طور پر حکومت کا ساتھ دیا، اس دوران حکومت کے بعض رہنماءاور وزراءنے اشتعال انگیز بیانات دیئے جس پر ایم کیوایم کے کارکنان کو صبر کی تلقین کی گئی اور جواب میں اشتعال انگیز بیان نہیں دیا گیا۔اب عوام خود فیصلہ کریں کہ حکومت میں شامل رہ کر ایم کیوایم نے کتنا صبر کیا ہے اور اشتعال انگیزی کے باوجود کارکنان کو صبر وتحمل سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم جمہوریت پسند جماعت ہے اور چاہتی ہے کہ حکومت اپنی جمہوری مدت پوری کرے لیکن پیپلزپارٹی کے بعض رہنماءاور وزراءنہیں چاہتے کہ ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کااتحاد برقرار رہے اور ان کی جانب سے اشتعال انگیزبیانات کے ذریعہ اس اتحاد کو توڑنے کی بارہا کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔
الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم نے صوبہ خیبر پختونخوا ، ہزاروال، بہاولنگر اورجنوبی پنجاب کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا، صوبہ ہزارہ، صوبہ بہاولنگر اور سرائیکی صوبہ کی حمایت کا اعلان کیاہے ۔ ایم کیوایم نے سندھ کی تقسیم یا کراچی صوبہ کی کوئی بات نہیں کی لیکن حکومت کے بعض وزراءاور ایجنسیوں کے پے رول پر کام کرنے والے نام نہاد قوم پرستوںکی جانب سے واویلا مچایا گیاکہ ایم کیوایم سندھ کی تقسیم چاہتی ہے۔
الطاف حسین نے سندھ کے دانشوروں ، کالم نگاروں ، صحافیوں اور زندگی کے دیگر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم اور سندھ کے امن پسند عوام کی کوششوں سے صوبے میں امن وامان کی فضاءقائم ہے جسے سبوتاژ کرنے کیلئے صرف نام نہاد قوم پرست ہی سازش نہیں کررہے بلکہ اس سازش میںپیپلزپارٹی کے بعض وزراءبھی شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ سندھ میں شہری اور دیہی تفریق کرکے بھائی چارے کی فضاءکو تباہ کیا جائے۔
انہوںنے مزید کہاکہ سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان اتحاد ویکجہتی کی فضاءجاگیرداروں اوروڈیروں کو ایک آنکھ نہیں بھارہی ہے اور وہ سندھ میں سندھی مہاجر فسادات کی سازشیں کررہے ہیں لیکن سندھ کے عوام اپنے اتحاد سے ایسی ہرسازش کو ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین سندھ دھرتی کا بیٹا ہے اور سندھ دھرتی سے غداری نہیں کرے گااور ایم کیوایم سندھ کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتی رہے گی۔
الطاف حسین نے حیدرآباد کے حوالہ سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کے بیان سے حیدرآباد کے لاکھوں شہریوں کی دل آزاری ہوئی ہے لیکن حیدرآباد کے عوام خود کو ہرگز تنہا نہ سمجھیں ۔ الطاف حسین نے جمہوریت کے نام پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے اپیل اپیل کی کہ ایم کیوایم ان کی حلیف جماعت ہے لہٰذا وہ اپنی حلیف جماعت کے رہنماوں کو اعتمادمیں لئے بغیر سندھ کے حوالہ سے کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے گریز کریں اسی میں جمہوریت کی بھلائی ہے۔
الطاف حسین نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے بعض رہنماوں اور وزراءکی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا فوری نوٹس لیں اور پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان اتحاد ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنائیں تاکہ ملک میں جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے۔
الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ متحد رہیں ، اپنے اتحاد کو مزید مضبوط بنائیں انشاءاللہ ایم کیوایم ، جاگیرداروں ،ملک کی دولت لوٹنے والوں اور سرکاری بنکوں سے اربوں کھربوں روپے قرض لیکر معاف کرانے والے وڈیروں کو ان کی جاگیروں سے نکال کر وہاں اسکول ، کالج اور اسپتال تعمیر کرے گی اور ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کا انقلاب لائے گی۔
No comments:
Post a Comment