Pages

Monday, May 31, 2010

معرکۂ کارگل پربھارتی آرمی کمانڈرکا بیان: پرویزمشرف کے مؤقف کی جیت

معرکۂ کارگل پربھارتی آرمی کمانڈرکا بیان: پرویزمشرف کے مؤقف کی جیت
By: Zubair Ahmed Madani
معرکۂ کارگل میں بھارتی فوج کے فارمیشن کمانڈرجنرل کشن پال نے آخرکار یہ اعتراف کرلیا ہے کہ بھارتی فوج کواس جنگ میں حربی، سیاسی اورسفارتی محاذ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ کارگل کی جنگ کے گیارہ سال بعد اس اعتراف کی اہمیت بھارتی نقطۂ نظرسے اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی کہ پاکستان کے نقطۂ نظر سے ہے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف تواترکے ساتھہ یہ بیانات د‏یتے رہے کہ کارگل کی جنگ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ملک پرمسلط کی تھی اوراسکے لئے وزیراعظم سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا، اوروہ یہ تاثربھی دیتے رہے کہ پاکستان یہ جنگ پرویز مشرف کی ناقص جنگی حکمت عملی کی وجہ سے ہار گیا۔ میاں صاحب ایسا اسلئے کرتے رہے کہ وہ پرویز مشرف سے عناد رکھتے تھے اوراس عناد کی وجہ یہ تھی کہ پرویز مشرف نے میاں صاحب کی بدعنوانیوں کی وجہ سے انہیں معزول کرکے اقتدار سنبھالا تھا۔

اب جبکہ خود بھارتی فوج نے اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ اسے اس جنگ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تو میاں نواز شریف کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ اعلانیہ اپنے پچھلے بیانات سے رجوع کریں۔ پچھلے کئی سالوں میں میاں صاحب اورانکے حامی صحافی جنرل پرویز مشرف کیلئے انتہائی بری اوراخلاق سے عاری زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ کوئی انہیں طبلچی لکھتا ہے توکوئی انتہائی رکیک تہمتیں ان پر لگاتا ہے۔ اکثراخبارات افواج پاکستان کے سپہ سالارکیلئے توتکاروالی زبان استعمال کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ انکے سید ہونے کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے اورانسے منسوب کرکے جھوٹے واقعات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے ہے جیسے راوی خود وہاں موجود رہا ہو۔ یہ پرویز مشرف کی اعلی ظرفی ہے کہ وہ اس بیہودہ گوئی کا جواب نہیں دیتے۔ بجیثیت آرمی چیف وہ بہت سی ایسی باتوں سے واقف تھے جو اگر وہ بیان کردیں تو الزام لگانے والے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں۔

بھارتی فوج کی جانب سے اعتراف شکست کے بعد ایک بات واضح ہوگئی کہ پرویزمشرف وہ پہلے اورواحد پاکستانی سپہ سالار تھے جنہوں نے بھارتی فوجی طاقت کو سرنگوں کیا اور اسطرح کہ خود دشمن بھی اسکا اعتراف کرنے پر مجبورہوا۔ ورنہ تو اس بات پر سب متفق ہیں کہ کارگل سے پہلے تک کی تمام جنگوں میں پاکستان ہی کوحزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ افوج پاکستان نے انکے اس عظیم الشان کارنامے کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایک ھیرو کی طرح رخصت کیا جس پر بہت سے ملک دشمنوں کوبڑا اعتراض ہے۔
In the Line of Fire - A Memoir by Pervez Musharraf (Urdu Language Edition)
دشمن کی فوجی طاقت کو شکست دینے کے ساتھہ ہی پرویزمشرف نے بحیثیت سربراہ مملکت پاکستان کیلئے جو کچھہ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ملک کی معیشت کوانہوں نے جسطرح ترقی دی اسکی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی گری ہوئی ساکھہ کونہ صرف بحال کیا بلکہ پاکستان کوایک بلند مقام پر لا کھڑا کیا جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ افسوس کہ ملک دشمنوں کی سازشیں عین اس وقت کامیاب ہوئیں جب پاکستانی معیشت ٹیک آف کی پوزیشن میں آچکی تھی۔
Pervez Musharraf Pakistan's Drift Into Extremism: Allah, then Army, and America's War Terror
اگرمیاں نواز شریف اورانکے حمایتی صحافیوں میں شرم وحیا کی کوئی رمق باقی ہے توانہیں چاھئے کہ اپنی تمام خطاؤں پرعلی الاعلان معافی مانگیں، یہی انکے ظرف کا امتحان ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں پورے اترتے ہیں توہی اپنے آپ کوقومی لیڈ‏رکہلا سکیں گے۔ جہاں تک پرویزمشرف کے خلاف ھرزہ سرائی کرنے والے صحافیوں کا تعلق ہے تووہ کبھی درست نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ جینیاتی تبدیلیاں عمومی حالات میں واقع نہیں ہوا کرتیں۔

No comments:

Post a Comment