Pages

Monday, September 22, 2014

New Province In Sindh: Southern Sindh Or Mohajir Sooba


دنیا بھر کے ممالک میں حکومتی انتظام و انصرام کیلئے صوبے بنائے جاتے ہیں ۔ ان کی تشکیل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ریاست و حکومت کے انتظام میں سہولت پیدا ہو اور عوام کی زندگی میں آسانی اور بہتری لائی جا سکے ۔ صوبے عموما آبادی کی مناسبت سے بنائے جاتے ہیں لیکن یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ کہ آبادی کے یونٹ جتنے زیادہ اور سائز میں کم ہونگے اتنا ہی انکا انتظام آسان ہوگا اور اتنا ہی عوام کیلئے بھی آسانیاں پیدا ہونگی۔ اس تحریر میں دنیا کے مختلف ممالک میں صوبوں کی تعداد بیان کی گئی ہے ۔ 
دنیا میں سب سے زیادہ صوبے جنوبی امریکہ کے ایک چھوٹے سے ملک پیرو کے ہیں جن کی تعداد ایک سو پچانوے 195 ہے۔ پیرو کی کل آبادی 2014 میں 3 کروڑ 8 لاکھ سے کچھ زیادہ جبکہ اس کا رقبہ پاکستان کے رقبے سے تقریب دیڑھ گنا بڑا ہے پیرو کے پڑوسی ملک بولیویا کے صوبوں کی تعداد 112 ہے ۔ اٹلی ایک اہم یورپی ملک ہے جسکے صوبوں کی تعداد 110 ہے۔
اسی طرح فلپائن 82، ترکی 81، تھائی لینڈ 77، اومان 63، ویتنام 58 اور چلی کے 54 صوبے ہیں۔ یونان کے دوسری جنگ عظیم سے قبل 139 صوبے تھے جوجنگ کے بعد 147 ہوگئے۔ 2006 میں یونان میں صوبوں کا تصور ہی ختم کرکے انہیں میونسپلٹیز میں تبدیل کردیا گیا جو صوبوں سے چھوٹے یونٹ ہیں۔ اس وقت 13 پیریفیریز میں 54 صوبے کی طرح کے یونٹ قائم ہیں۔
ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے تقسیم کے وقت نو صوبے تھے جبکہ اب یہاں 28 صوبے اور 7یونین ٹیریٹوریز ہیں۔
ایران کے 34 صوبے ہیں جبکہ 1950 تک ایران کے صوبوں کی تعداد 12 تھی۔ افغانستان میں 34 صوبے ہیں جو مزید ڈسٹرکٹ میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ چین میں صوبوں کی تعداد 23 ہے جبکہ 5 میونسپلٹیز، 5 خودمختار علاقے اور دو سپیشل انتظامی علاقے انکے علاوہ ہیں جن کو صوبے کا ہی اسٹیٹس ملا ہوا ہے۔
کینیڈا جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے تاہم آبادی میں ہم سے چوتھائی سے بھی کم ہے یہاں 10 صوبے اور تین ٹیریٹوریز ہیں۔ صوبے دستوری ایکٹ کے تحت جبکہ ٹیریٹوریز براہ راست وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ کینیڈا کے پڑوس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے جس کی 52 ریاستیں ہیں جبکہ برازیل 26 صوبوں پر مشتمل ہے۔
سویئزر لینڈ ایک بہت کم آبادی والا یورپی ملک ہے جس میں 26 صوبے ہیں جو کینٹن کہلاتے ہیں۔ ہر کینٹن مکمل خود مختاری رکھتا ہے جس کا اپنا قانون، اپنی حکومت اور اپنی عدلیہ ہوتی ہے یہاں تک کہ ہر کینٹن کا اپنا آیئن بھی ہوتا ہے۔ سویئس وفاقی آیئن کینٹن کو اس حد تک خود مختاری دیتا ہے کہ یہ فیڈرل قوانیں کی حدود سے بھی ماورا ہوتی ہے۔ ہر کینٹن صحت، عوامی فلاح، تعلیم، نفاذ قانون کے علاوہ نئے ٹیکس لگانے اور ٹیکس اکٹھے کرنے کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔
جاپان میں صوبے پری فیکچر کہلاتے ہیں جن کی تعداد 47 ہے جبکہ 1871 میں یہاں صوبوں کی تعداد 304 تھی۔
فرانس میں 22 صوبے ہیں جبکہ جرمنی میں 16 صوبے ہیں۔ الجزائر 48، انگولا18، سعودی عربیہ 13، ارجنٹینا 23، آرمینیا 11، بیلاروس 7، بیلجیئم 10، بلغاریہ 28 اور کوسٹاریکا میں 7 صوبے ہیں۔
سب سے کم صوبے تاجکستان میں تین جبکہ پاکستان میں چار ہیں ۔ پاکستان کی آبادی تقریبا بیس کروڑ ہے جبکہ تاجکستان کی آبادی محض 80 لاکھ ہے جو کراچی کی آبادی کی تقریبا ایک تہائی ہے۔ ترکمانستان کے 5 صوبے ہیں جسکی کل آبادی 52 لاکھ سے کم ہے جو کراچی کی آبادی کا ایک چوتھائی ہوتا ہے۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

http://worldtopstyle.com  http://dailyfreepips.com  http://easygocanada.com

Sunday, May 11, 2014

سابق چیف جسٹس عدالت کے کٹہرے میں کیوں نہیں!

Ex. CJP, Iftikhar Choudhri a criminal?
حقوق انسانی کی علمبردار اور معروف ماہر قانون محترمہ عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ جیو چینل اور سابق چیف جسٹس کے درمیان گٹھ جوڑ ہو چکا تھا کہ جیو کے خلاف کوئی  دعوی دائر نہیں کر سکتا تھا

یہ ایک انتہائی سنگین الزام ہے اور یہ الزام  لگانے والی کوئی معمولی شخصیت نہیں بلکہ ملک کی ایک بہت بڑی قانون داں ہیں جو قانون کی باریکیوں کو خوب جانتی ہیں

کیا سابق چیف جسٹس کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جانا چاہئے کہ اس نے اس وقت قانون کو مذاق بنایا جب وہ انصاف کی سب سے اونچی مسند پر بیٹھا فراہمئ انصاف کے دعوے کرتا رہتا تھا

اگر عاصمہ جہانگیر غلط ہیں تو انہیں سزا دی جائے اور اگر سابق چیف جسٹس  گناہگارہے تو اسے بھی قانون میں موجود کڑی سے کڑی سزا دی جائے کیونکہ قانون سابق آرمی چیف کیلئے ہی نہیں سابق جوڈیشئل چیف کیلئے بھی برابر ہے

اس کے ساتھ ہی جیو اور جنگ گروپ کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی کی جائے کہ اس نے عدل و انصاف کو خرید کر اپنے گھر کی لونڈی بنانے کی کوشش کی

Wednesday, January 15, 2014

سندھ پولیس میں تقرریوں اور تبادلوں پر رینجرز کے تحفظات اور چوھدری اسلم کیس۔ الطاف حسین کا اظہار تشویش

اطلاعات کے مطابق  ڈی جی سندھ رینجرز نے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور سندھ پولیس میں تقرریوں اور تبادلوں پرتحفظات کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ ہاوٴس کراچی میں ڈی جی سندھ رینجرز نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات میں   ڈی جی رینجرز نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے کراچی پولیس میں ہونے والی تقرریوں اور تبادلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
دوسری طرف ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے  ان اخباری اطلاعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جو ذرائع ابلاغ میں شائع ونشر ہورہی ہیں کہ حکومت سندھ  کی جانب سے پولیس میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی تبدیلیوں پر حکومت سندھ اور رینجرز اور رینجرز کے ڈی جی میجر جرنل رضوان اختر کے مابین سخت قسم کی غلط فہمیوں اور ناچاقیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ چوہدری اسلم کی شہادت کے بعد بعض قومی اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ چوہدری اسلم کا قتل بعض اداروں کی آپس کی چپقلش کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چوہدری اسلم اور ان کے دیگرساتھیوں کی شہادت اور زخمی ہونیوالوں کی تحقیقات حکومت سندھ اور رینجرز مل کر بھر پور طریقے سے کرتے تاکہ چوہدری اسلم کے قتل کی اصل وجوہات اور اس کے پیچھے کار فرما ہاتھوں کو پکڑ کر انہیں گرفتار کیا جاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ چوہدری اسلم کی شہادت کے پیچھے دہشت گردوں سمیت اگر اندرونی ہاتھ بھی کارفرما تھے تو انکو بھی بے نقاب کیا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ چوہدری اسلم اوردیگر پولیس والوں کے قتل پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کی غرض سے سندھ میں پولیس کی تبادلوں اور رینجرز کے اعلیٰ افسران کی ناراضگی کا مسئلہ چھیڑا گیا ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے چوہدری اسلم اور انکے ساتھیوں کے قتل کی تحقیقات پسِ پردہ چلی گئی ہے اوراس طرح عوام کا ذہن چوہدری اسلم کی شہادت سے ہٹا کر دوسری طرف لگانے کی سازش کی گئی ہے ۔
جناب الطاف حسین نے چوہدری اسلم شہید اوران کے شہید ساتھیوں کے تمام پرخلوص اور دیرینہ پولیس کے افسران اور سپاہی ساتھیوں سے پرزور اپیل بھی کی  کہ وہ چوہدری اسلم شہید جنہیں ایک سازشی منصوبہ کے تحت قتل کیا گیا اور ان کے ساتھیوں کے سفاکانہ قتل کے اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کے لئے جو نئی نئی سازشیں کی جارہی ہے اس کو خدارا وہ سمجھیں اور چوہدری اسلم سمیت اپنے ساتھیوں کے خون پر پردہ ڈالنے کی سازش کو ناکام بنانے میں اپنا اپنا بھرپور کردار اپنے ضمیر کے مطابق ادا کریں۔

ڈاکٹر عطا ءالرحمان صاحب کا کالم ۔ مشرف کیا ہم بھول گئے


ڈاکٹر عطاء الرحمن ہمارے ملک کے ایک مایہ ناز سایئنسدان ہیں جنکی قابلیت کا ایک زمانہ معترف ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے تبحر علمی کا اندازہ لگانا ہی ایک مشکل کام ہے ۔ دنیا بھر کے تمام اعلی تعلیمی اداروں میں انکی کئی کتابیں نصاب کا حصہ ہیں اور اب تک انکے سینکڑوں کی تعداد میں تحقیقی مقالے دنیا بھر کے انتہائی مؤقر سایئنسی جریدوں میں شائع ہوچکے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب پرویز مشرف دور میں سایئنس وٹیکنالوجی کے وزیر بھی رہے اور اعلی تعلیمی کمیشن کے بھی چئرمین کی حیثیت سے بھی کام کیا ۔ پرویز مشرف کے دور کو پاکستانی معیشت کا دور زریں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا ۔ اس دور میں ملک نے معاشی و تعلیمی میدانوں میں بے انتہا ترقی کی اور بین الاقوامی برادری میں ہمارا  بھی ان ملکوں میں شمار ہونے لگا جو تیز رفتار ترقی کررہے تھے  اور جن کا مستقبل انتہائی روشن نظر آنے لگا تھا۔ افسوس کہ جاگیر داری، سرداری، وڈیرانہ اور قبائلی نظام کے محافظ ایکشن میں آئے اور پھر سب کچھ ملیا میٹ ہوگیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک خواب تھا جو دیکھا اور پھر آنکھ کھل گئی۔

ڈاکٹر صاحب نے گذشتہ ہفتے جنگ اخبار میں ایک کالم لکھا تھا جس میں پرویز مشرف دور کی معاشی و تعلیمی ترقی کا  جائزہ لیا گیا تھا۔ اس مضمون کو بڑی پذیرائی حاصل ہوئی جو استحصالی نظام کے پروردہ کچھ نام نہاد قلم کاروں کو انتہائی گراں گذری ۔ ایسے لوگ جو اپنے آپ کوقلم کار کہتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ قلم فروش ہیں ڈاکٹر صاحب کے خلاف اور پرویز مشرف کے بغض وعداوت میں سامنے آگے اور انتہائی جاہلانہ اور تعصبانہ تنقید پر مبنی مضامین لکھے جانے لگے ۔

ڈاکٹر عطا الرحمان صاحب پر تنقید کرنے والے تعصب اور نفرت میں اتنے آگے جاچکے ہیں کہ انہیں اپنے عقلی و ذھنی نابینا پن کا احساس بھی نہیں رہا ۔ مشرف صاحب سے انکی نفرت کا اظہار انکی تحریر سے ہی ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ پرویز مشرف کیلئے جو انداز تخاطب اپناتے ہیں اس سے کوئی بھی شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ انہیں پاکستان کو بام عروج تک لیجانے والے پرویز مشرف سے کس قدر نفرت ہے اور اگر کوئی پرویز مشرف کی تعریف کرے یا انکے لئے تحسین آمیز الفاظ استعمال کرے جسکے وہ  درحقیقت مستحق ہیں تو انکے منہ سے جھاگ نکلنے لگتے ہیں اور تیوریاں چڑھ جاتی ہیں یہاں تک کہ اس شخص کی قد آور مور تسلیم شدہ حیثیت کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں ۔ یہ پستہ قد لوگ اپنے قد بڑھانے کیلئے اپنے سے بڑوں پر تنقید کرتے ہیں اور اس طرح اپنی روزی کماتے ہیں بنا یہ سوچے کہ یہ حرام ہے یا حلال ۔ ایسا ہی ایک بونا یاسر پیرزادہ ہے جس نے اتوار کو اپنے اندرونی زہر کو اگلا اور ایک روؤف طاہر ہے جو آج اپنے اندر کی گند کو باہر نکال رہا ہے ۔ عرفان صدیقی اور انصارعباسی بھی ایسے ہی ذہنی مریضوں میں شامل ہیں جنہیں ایک لاعلاج نفسیاتی بیماری مشرف فوبیا لاحق ہوچکی ہے ۔
جنگ گروپ بھی پرویز مشرف کے خلاف اپنے بغض وعناد کا بھرپور مظاہرہ کررہا ہے۔ یہ اخبار کمینٹس کے نام پر ویب سائٹ پر ڈرامہ کرتا ہے ۔ مخالفانہ کمنٹس اس نے اپنی ویب سائٹ پر کبھی نہیں شائع کئے ۔

Tuesday, July 16, 2013

بی بی سی کا پروگرام نیوز نائٹ ادارے کو بدنام کر گیا

بی بی سی کے پروکرام میں ایک الزام یہ لگایا گیا ہے کہ الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر الیکٹرانک کمیونیکیشن کے ذریعے لوگوں کو تشدد پر اکساتے ہیں ۔ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ کام الطاف حسین نے نہیں کیا بلکہ یہ کام تو بی بی سی نے کیا ہے کہ الکٹرانک میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے، یعنی اپنے ٹی وی چینل پر ایک ایسا بے بنیاد پروکرام پیش کیا جسکے نتیجے میں پاکستان میں ایک بڑا خلفشار پیدا ہوسکتا تھا اور امن وامان کی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔ اگر یہ پروگرام حقائق پر مبنی ہوتا یا کم از کم صحافت کے مروجہ اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے بھی تیار کیاگیا ہوتا تو یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا تھا ۔ لیکن بی بی سی جیسے مؤقر ابلاغی ادارے نے غیر ذمہ داری کی انتہا کرتے ہوئے پروگرام میں بلا کسی قابل اعتماد ذرائع کے محض اخبارات اور ٹی وی ریڈیو چینلز کی خبروں پر انحصار کیا اور ایک ایسی تنظیم اور اسکے قائد کے خلاف انتہائی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی جسکے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کئی ملین حامی اور کارکنان ہیں اور جو اپنے لیڈر سے نہ صرف محبت بلکہ عقیدت رکھتے ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ لوگ وہ ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ باشعور افراد میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اگر انکے جذبات کو بھڑکانا ہی بی بی سی کا مقصد تھا تو اس ادارے نے نہ حرف اپنی ساکھ کو دنیا بھر میں تباہ کردیا ہے بلکہ کراچی کے عوام کے دلوں سے بھی اپنی وقعت کو ختم کردیا ہے ۔ یہ وہی کراچی کے عوام ہیں جو بی بی سی کو آل انڈیا ریڈیو، آکاش وانی اور ڈیوچے ویلے پر ترجیح دیا کرتے تھے اور اسے زیادہ قابل اعتماد سمجھتے تھے ۔

مہاجروں کیلئے ایک نئے صوبے کی ضرورت

اردو بولنے والوں یعنی مہاجروں کو نہ صرف سندھ میں بلکہ پورے پاکستان میں اپنے سے کمتر سمجھا جاتا ہے ۔ اسکے ساتھ ہی انہیں انکی قابلیت کی وجہ سے اپنے لئے خطرہ بھی سمجھا جاتا ہے ۔ انہیں اس قبائلی اور سرداری نظام کیلئے بھی خطرہ سمجھا جاتا ہے جو صدیوں سے ان معاشروں پر مسلط ہے ۔ یہ تمام عوامل مل کر مہاجروں کیلئے تعصب کا مظہر تشکیل دیتے ہیں ۔
اس صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ مہاجر صوبہ سندھ کی آبادی کا پچاس فیصد سے زائد ہیں ۔ بین الاقوامی قوانین بھی اس مطالبے کی حمایت کریں گے کہ ایک ایسا ملک جہاں صوبوں کی تشکیل زبانوں اور مقامی ثقافتوں کی بنیار پر ہوئی ہے وہاں مہاجروں کو بھی ان کے لئے ایک صوبہ بنانے کا پورا حق ملنا چاہئے ۔ پاکستان میں نئے صوبوں کیلئے مطالبات کوئی نئی بات نہیں ہیں ۔اور متحدہ قومی موومنٹ اس بنیاد پر جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبوں کی حمایت کرتی رہی ہے کہ یہ وہاں کے عوام کا مطالبہ ہے ۔ لہذا اب جبکہ صوبہ سندھ کے عوام کی غالب اکثریت اپنے لئے علیحدہ صوبے کا مطالبہ کررہی ہے تو ایم کیو ایم کو اس مطالبے پر توجہ دینی چاہئے اور زیریں سندھ یا جنوبی سندھ صوبے کا مطالبہ پوری قوت کے ساتھ کرنا چاہئے ۔ اور اس مطالبے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے ۔ شہری سندھ کے عوام کی تالیف قلب کی یہی واحد اور موزوں ترین صورت ہے ۔

http://worldtopstyle.com
http://dailyfreepips.com
http://easygocanada.com

ذرائع ابلاغ کا ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے عناد کوئی نئی بات نہیں

جب سے ایم کیو ایم وجود میں آئی ہے اسکے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جاتے رہے ہیں۔ اس عمل میں ذرائع ابلاغ کا ایک گروہ آگے آگے رہا۔ ایم کیو ایم کے خبروں اور پریس ریلیز کا بایئکاٹ کیا جاتا رہا اور جہاں مجبوری حارج ہوئی وہاں خبروں کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ کراچی کے عوام سے ہی اربوں کی کمائی کرنے کے بعد انہی کی پیٹھہ میں چھرا بھی گھونپا جاتا رہا ہے۔ کراچی میں ہی سب سے زیادہ اشاعت رکھنے والے اخبارات میں  روزنامہ جنگ بھی شامل ہے ۔ جنگ گروپ ھمیشہ سے ایم کیو ایم کے خلاف بغض و عناد کا مظاہرہ کرتا آیا ہے ۔  1986 میں کراچی میں 8 اگست سے پہلےنشترپارک میں مولانا نورانی مرحوم کا جلسہ ہوا تھا جس میں شائد چند ہزار افراد شریک تھے۔ اس جلسے کی کوریج شہ سرخی میں کی گئی تھی ۔ 8 اگست کو کراچی کے نشتر پارک میں ایم کیو ایم کا تاریخی جلسہ ہوا جس میں بلا مبالغہ لاکھوں افراد نے شرکت کی اور نا مساعد موسم کے باوجود انتہائی نظم و ضبط سے جلسے کی کارروائی سنی ۔ یہ جلسہ نورانی صاحب کے جلسے سے کئی گنا بڑا تھا مگریہ دیکھہ کر حیرت ہوئی کہ  دوسرے روز کے جنگ میں اس کو وہ جائز مقام نہیں دیا گیا جو اس کا حق تھا  ۔ راقم کے دوست جو اس وقت اس اخبار میں ایک اہم عہدے پر کام کررہے تھے ان سے جب استفسار کیا تو انہوں نے رازداری کی شرط پر بتایا کہ اس کیلئے لیڈ یعنی شہہ سرخی تیار ہوئی تھی لیکن انتظامیہ کے پاس فون آگیا کہ اس جلسے کی خبر کو ڈاؤن کر دیا جائے یعنی اسکی اصل اہمیت کو گھٹا دیا جائے۔ اس ڈائریکٹیو کا سبب انہیں بھی نہیں پتہ تھا ۔ تاہم راقم کو اسکا اچھی طرح پتہ تھا کہ اسکے پیچھے کیا سوچ کار فرما تھی ۔ 1978 میں اے پی ایم ایس او بننے سے 1986تک جب یہ جلسہ ہوا اچھی طرح  یاد ہے کہ اپنے کچھہ اور ساتھیوں کے ساتھہ کئی بار اخبارات کے دفاتر جانا ہوتا تھا کہ وہاں اپنے پریس ریلیز اشاعت کیلئے دے سکیں لیکن اول تو پریس ریلیز لینے ہی میں حیل حجت سے کام لیا جاتا اور لے بھی لی جاتی تو اسکی اشاعت کی نوبت کبھی کبھار ہی آتی تھی اور اشاعت میں بھی اسکا تیا پانچہ کر دیا جاتا ۔