Pages

Thursday, September 16, 2010

DR. IMRAN FAROOQ MURDERED IN LONDON

Dr Imran Farooq, one of the founding members and a senior leader of MQM, was stabbed to death in London on Thursday, reported a private TV channel. Dr. Imran Farooq was a former convener of MQM. The MQM has declared a 10-day mourning.  Hundreds of party activists have converged on Mr Farooq's family home in central Karachi.
Quoting sources, the media outlets said that unknown veiled assailants stabbed Farooq several times in the Mill Hill area of the British capital while he was on his way to the home. He was rushed to a local hospital where he succumbed to his injuries.
The police cordoned off the crime scene and started investigation. The assailant, however, managed to flee the scene, the channel added.
Meanwhile, the ceremony organised in connection with the 57th birthday of MQM Chief Altaf Hussian in Karachi was cancelled at the last moment despite the fact that thousands of workers had thronged the venue.
الطاف حسین غم سے اشکبار ہیں
Police in London were called to reports of a serious assault at 1730 BST on Thursday. Mr Farooq was treated by paramedics but declared dead at the scene about an hour later.

A London Metropolitan Police spokesman said: "When officers arrived they found an Asian male, aged 50, suffering from multiple stab wounds and head injuries. "He was treated by paramedics at the scene but was pronounced dead at 1837."

Mr Farooq disappeared from Pakistan in 1992 and is known to have been living in exile in London since 1999, when he claimed asylum in the UK. The former Pakistani parliamentarian was one of the founding members of the MQM.

The party said it had declared a 10-day mourning period in Pakistan and in its offices across the world. Leaders said they expect to take Mr Farooq's body back to Karachi for burial after legal formalities have been completed.

Sunday, August 15, 2010

Still Life by Sohail Ismail at Shakil Ismail Art Gallery

Shakil Ismail Art Gallery held an exhibition of fascinating still-life paintings by the upcoming artist Sohail Ismail. Sohail Ismail was born in 1972 in Karachi and after finishing a four-year diploma in Graphic Design from the Central Institute of Arts and Crafts, Art Council Karachi, started working as a graphic designer in an advertising agency. Currently he is working as a freelance artist, and has already held a group show and a solo exhibition of his works before this one.

Wednesday, August 4, 2010

Wednesday, July 14, 2010

SADEQUAIN, A R CHUGHTAIs' Work in Bombay Auction

An art auction in Mumbai India, featuring works by Pakistani icons A.R. Chughtai’s celebrated ‘Ghalib’ and Sadequain’s ‘Lazzat-e-Bosa’, signalled revival of the Indian art market. The auction saw a total sale of $6.05 million.
 Pakistani Girl Canvas Print / Canvas Art - Artist Enzie Shahmiri Remix Immortal Pakistani Film SongsRough Guide to Sufi MusicPakistani Martial Artists: Pakistani Kabaddi Players, Pakistani Wrestlers, Inamullah Khan, Bholu Pahalwan, the Great Gama, Imam Baksh PahalwanBest of Pakistani Ghazals  Best of Pakistani Ghazals East Pakistani Looking Forlorn While Waiting For Rations from British Troops After Cyclone Disaster Artists Photographic Poster Print by Larry Burrows, 12x16

میڈیا اور سیاست - خورشید ندیم

میڈیا اور سیاست - خورشید ندیم
میڈ یا اور سیاست کا تعلق بیک وقت محبت اور نفرت کے رنگ لیے ہو ئے ہے۔دونوں کا ایک دوسرے کے بنا گزارا نہیں لیکن ایک ساتھ گزارا بھی آسان نہیں۔
اہل ِ سیاست کو تشہیر کی ضرورت ہو تی ہے۔وہ چا ہتے ہیں کہ ان کے بیانات اور تصاویر اخبارات کی زینت بنتے رہیں۔ان کا چہرہ ٹی وی سکرین پر نظر آتا رہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا سے ان کے تعلقات خوش گوار رہیں۔ دوسری طرف اہل ِصحافت بھی سیاست دانوں کے محتاج ہیں۔سیاست کے ایوانوں میں ہو نے والی پیش رفت،سیاسی فیصلوں کا پس منظر،بیانات میں چھپے بین السطور مطالب اور اندر کی خبر میسر نہ ہو تو صحافت چمکتی نہیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ صحافی سیاست دانوں سے تعلقات بنا ئے رکھیں۔ایک طرف کے لوگ دیوار کے دوسری طرف کھڑے لوگوں کی خبر دیتے ہیں اور اُس طرف والے اِس طرف والوںکی خبر دیتے ہیں۔اب صحافی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ کسی کوناراض نہ کرے ، خبر دیتا رہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ کسی کے خلاف خبر شائع ہو گی تو وہ را ضی کیسے رہے گا؟یہی مشکل ہے جس کے سبب یہ تعلق کبھی محبت پر استوار ہو تا ہے اور کبھی نفرت پر۔
کو ئی اس تعلق کو سمجھنا چا ہے تو شیخ رشید صاحب اور میڈیا کے تعلقات میں آنے والے اتار چڑھا ئو پر ایک نظر ڈالے۔شیخ صاحب کو مقبول بنانے میں اخبارات کا کر دار بنیا دی ہے۔ وہ اخبار کے ایڈیٹر سے لے کررپو رٹر اور نیوز ڈیسک پر بیٹھے ہر آ دمی کے ساتھ براہ راست تعلقات رکھتے تھے۔ان تعلقات میں بہت وسعت تھی۔اخبار میں تصویر کیسے شا ئع ہو،بیان دو کا لمی ہو یا تین کالمی،خبر کس صفحے پر لگے،ان کی خوا ہش ہو تی تھی کہ ان کا ہر کام حسب ِ خوا ہش ہو جا ئے۔ان کی یہ حکمت عملی فی الجملہ کا میاب رہی اور وہ لیڈر بن گئے۔یہ ان کا کمال تھا کہ وہ شورش کا شمیری سے لے کر شورش ملک تک،سب سے کام لے سکتے تھے۔لیکن جب وہ اقتدار تک پہنچے تو میڈیا کے ساتھ ان کے تعلقات میں سرد مہری اور پھر مخالفت نے جنم لیا۔اب ان کا کہنا ہے کہ وہ اگر ضمنی انتخابات میں ہارے ہیں تو اس کی وجہ میڈیا کی طرف سے ان کی مخالفت ہے۔میڈیا کی محبت نفرت میں بدلی اور یوں شیخ صاحب کی سیاست اپنے انجام کو پہنچی۔
گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں اراکینِ اسمبلی نے میڈیا کے خلاف جس غصے کا اظہار کیا،یہ بھی اسی پیچیدہ تعلق کا ایک اظہار تھا۔پرا ئیویٹ چینلز آئے تو ہر سیاست دان یہ خواہش رکھتا تھا کہ وہ ٹی وی سکرین کی زینت بنے۔ ٹاک شوز نے انہیں ایسا کھلو نا بنا دیا جس سے دن بھر کے تھکے ہارے لوگ دل بہلا نے لگے۔پہلے وہ ٹی وی ڈرامہ دیکھتے تھے،اب ٹاک شوز دیکھنے لگے۔پہلے تو سیاست دان یہ سمجھتے رہے کہ ان کی عزت افزائی ہو رہی ہے۔بہت دیر بعد انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو جگ ہنسائی تھی۔ایسے پروگرام جب مقبول ہو ئے تومزاح نگاروں اور مزاحیہ اداکاروں کی چا ندی ہو گئی۔جب دل بہلانا مقصود ٹھہرا ہوپھر تر جیح اُسی کی ہو گی جواس میدان میں بہتر کا رکادگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔یوں اینکر ز پر مزاحیہ اداکا روں کو فوقیت مل گئی۔سیاست میڈیا کے لیے با زیچہ اطفال بن گئی۔یہاں پگڑی کیا لباس کا کو ئی تار سلامت نہیں رہا۔نو بت یہاں تک پہنچی تو اہل ِ سیاست چیخ اٹھے۔پنجاب اسمبلی کے اراکین کی زبانی ہم نے جو کچھ سنا وہ یہی چیخ تھی۔تا دمِ تحریر معا ملہ یہاں تک پہنچا ہے،آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ؟ان لوگوں کی خد مت میں اب شعیب بن عزیز کا یہ مصرعہ ہی پیش کیا جا سکتا ہے کہ
اس طرح تو ہو تا ہے اس طرح کے کاموں میں
سچ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی سیاسی ادارے بن سکے ہیں نہ صحافتی۔دونوں ارتقائی مراحل طے کر رہے ہیں۔لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ قلم کی صحافت تو مدت سے جاری ہے۔ہمارے ہاں ایسے اخبارات بھی ہیں جن کی عمر پا کستان کی عمر سے زیادہ ہے۔کیا انہیں مزید ارتقا کی ضروت ہے؟ میرے پاس اس سوال کا جواب، اس کے سوا نہیں ہے کہ صحافت کو قوم کے اجتماعی اخلاقی اور سماجی ارتقا سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔جو اقدار ایک عام آدمی،ایک سیاست دان یا سرکاری ملازم کے لیے کو ئی اہمیت رکھتی ہیں،وہی اہل ِ صحافت کے لیے بھی اہم ہیں۔سیاست دانوں کو جب بھی صحافیوں پر
غصہ آئے،انہیں چا ہیے کہ اپنے گریبان میں جھانک لیا کریں۔ اس کے بعد شاید انہیں زیا دہ پر یشانی نہ ہو۔
دل کے بہلا نے کو یہ خیال برا نہیں کہ ہم ابھی ارتقائی مرا حل طے کر رہے ہیں لیکن معا ملے کی نو عیت شاید یہ نہیں ہے۔انسان کے ارتقائی سفر کا ایک حاصل یہ ہے کہ قوموں کی ترقی ادارہ سازی سے مشروط ہے۔ادارے مضبوط ہوں تو افراد کی کو تا ہیوں کا تدارک ممکن ہے۔اگر معا ملات افراد کے ہاتھوں میں رہیں گے تو پھر فرد کے مفاد کو تر جیح ہو گی۔وہ صحافی ہو یا سیاست دان، رویے میں کو ئی جو ہری فرق نہیں ہو گا۔ادارہ سازی کایہ کام صحافت کے ذمہ داران کو کر نا ہو گا اور اہل ِسیاست کو بھی۔جب تک یہ نہیں ہو گا ایک تماشہ لگا رہے گا۔میڈیا سیاست دانوں کی پگڑی اور ڈگری اچھالے گا اور وہ جواباً صحافیوں کی ڈگریوں کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ اسمبلیاں،ٹی وی چینلزاور اخبارات صرف گندے کپڑے دھونے کے گھاٹ بن جا ئیں گے۔اگر یہ ارتقا ہے تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا؟میں تو نہیں جا نتا کہ دھوبی گھاٹ کے بعد کیا ہوتا ہے۔ بشکریہ روزنامہ اوصاف

An Anthology of Modern Urdu Poetry: In English Translation, With Urdu Text (Mla Texts and Translations, 12) Masterpieces of Modern Urdu Poetry Ab-e hayat: Shaping the Canon of Urdu Poetry 


The Oxford Anthology of Modern Urdu Literature: Poetry and Prose Miscellany VOLUME 1 (Oxford India Collection)  My Temples, Too - A Novel My Friend, My Enemy: Essays, Reminiscences, Portraits

Monday, May 31, 2010

MQM IN PUNJAB

The MQM’s convention across central and southern Punjab is a welcome development. One hopes that it can someday liberate the country’s most populous province from the yokes of feudal and industrial exploiters.

The social development record of the MQM remains exceptional. The network of flyovers and other infrastructure in Karachi speaks for itself. The party does not have loan defaulters, fake degree holders or kinfolk of party leadership sitting in the two houses.

The feudal system and industrial/commercial cartels are conjoined in politics like Siamese twins. One is reminded of the duo that ran Punjab affairs for eight long years (Source: Dawn/ www.newslinekarachi.com)
Karachi: Megacity of Our Times
Samsung Strive A687 Phone, Purple (AT&T)

معرکۂ کارگل پربھارتی آرمی کمانڈرکا بیان: پرویزمشرف کے مؤقف کی جیت

معرکۂ کارگل پربھارتی آرمی کمانڈرکا بیان: پرویزمشرف کے مؤقف کی جیت
By: Zubair Ahmed Madani
معرکۂ کارگل میں بھارتی فوج کے فارمیشن کمانڈرجنرل کشن پال نے آخرکار یہ اعتراف کرلیا ہے کہ بھارتی فوج کواس جنگ میں حربی، سیاسی اورسفارتی محاذ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ کارگل کی جنگ کے گیارہ سال بعد اس اعتراف کی اہمیت بھارتی نقطۂ نظرسے اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی کہ پاکستان کے نقطۂ نظر سے ہے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف تواترکے ساتھہ یہ بیانات د‏یتے رہے کہ کارگل کی جنگ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ملک پرمسلط کی تھی اوراسکے لئے وزیراعظم سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا، اوروہ یہ تاثربھی دیتے رہے کہ پاکستان یہ جنگ پرویز مشرف کی ناقص جنگی حکمت عملی کی وجہ سے ہار گیا۔ میاں صاحب ایسا اسلئے کرتے رہے کہ وہ پرویز مشرف سے عناد رکھتے تھے اوراس عناد کی وجہ یہ تھی کہ پرویز مشرف نے میاں صاحب کی بدعنوانیوں کی وجہ سے انہیں معزول کرکے اقتدار سنبھالا تھا۔

اب جبکہ خود بھارتی فوج نے اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ اسے اس جنگ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تو میاں نواز شریف کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ اعلانیہ اپنے پچھلے بیانات سے رجوع کریں۔ پچھلے کئی سالوں میں میاں صاحب اورانکے حامی صحافی جنرل پرویز مشرف کیلئے انتہائی بری اوراخلاق سے عاری زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ کوئی انہیں طبلچی لکھتا ہے توکوئی انتہائی رکیک تہمتیں ان پر لگاتا ہے۔ اکثراخبارات افواج پاکستان کے سپہ سالارکیلئے توتکاروالی زبان استعمال کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ انکے سید ہونے کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے اورانسے منسوب کرکے جھوٹے واقعات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے ہے جیسے راوی خود وہاں موجود رہا ہو۔ یہ پرویز مشرف کی اعلی ظرفی ہے کہ وہ اس بیہودہ گوئی کا جواب نہیں دیتے۔ بجیثیت آرمی چیف وہ بہت سی ایسی باتوں سے واقف تھے جو اگر وہ بیان کردیں تو الزام لگانے والے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں۔

بھارتی فوج کی جانب سے اعتراف شکست کے بعد ایک بات واضح ہوگئی کہ پرویزمشرف وہ پہلے اورواحد پاکستانی سپہ سالار تھے جنہوں نے بھارتی فوجی طاقت کو سرنگوں کیا اور اسطرح کہ خود دشمن بھی اسکا اعتراف کرنے پر مجبورہوا۔ ورنہ تو اس بات پر سب متفق ہیں کہ کارگل سے پہلے تک کی تمام جنگوں میں پاکستان ہی کوحزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ افوج پاکستان نے انکے اس عظیم الشان کارنامے کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایک ھیرو کی طرح رخصت کیا جس پر بہت سے ملک دشمنوں کوبڑا اعتراض ہے۔
In the Line of Fire - A Memoir by Pervez Musharraf (Urdu Language Edition)
دشمن کی فوجی طاقت کو شکست دینے کے ساتھہ ہی پرویزمشرف نے بحیثیت سربراہ مملکت پاکستان کیلئے جو کچھہ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ملک کی معیشت کوانہوں نے جسطرح ترقی دی اسکی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی گری ہوئی ساکھہ کونہ صرف بحال کیا بلکہ پاکستان کوایک بلند مقام پر لا کھڑا کیا جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ افسوس کہ ملک دشمنوں کی سازشیں عین اس وقت کامیاب ہوئیں جب پاکستانی معیشت ٹیک آف کی پوزیشن میں آچکی تھی۔
Pervez Musharraf Pakistan's Drift Into Extremism: Allah, then Army, and America's War Terror
اگرمیاں نواز شریف اورانکے حمایتی صحافیوں میں شرم وحیا کی کوئی رمق باقی ہے توانہیں چاھئے کہ اپنی تمام خطاؤں پرعلی الاعلان معافی مانگیں، یہی انکے ظرف کا امتحان ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں پورے اترتے ہیں توہی اپنے آپ کوقومی لیڈ‏رکہلا سکیں گے۔ جہاں تک پرویزمشرف کے خلاف ھرزہ سرائی کرنے والے صحافیوں کا تعلق ہے تووہ کبھی درست نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ جینیاتی تبدیلیاں عمومی حالات میں واقع نہیں ہوا کرتیں۔

Saturday, May 29, 2010

Business immigration has a positive impact on British Columbia, CANADA

Business immigration has a positive impact on British Columbia
Business immigration programs are being praised for their success in the beautiful province of British Columbia (BC), as more and more new Canadians are making an impact on BC’s economy while enjoying the province’s high quality of life.

Since 2002, business immigration programs have been responsible for more than $603-million in investment in the province, as well as the creation of more than 2500 new jobs. However, it is not only the province that is benefitting from business immigration. Business immigrants extol the virtues of living in Canada’s gateway to the Pacific.

Business immigrants choose to settle in BC for a number of reasons. The province and its most well-know cities, Vancouver and Victoria, consistently appear at or near the top of the rankings in studies or surveys of the best places to live in the world. In addition, the province is home to the University of British Columbia, a respected university that the children of business immigrants frequently attend.

“The economy has some influence, but in the [business] class, quality of life is a consideration that’s equally important,” said Moira Stilwell, BC’s Advanced Education and Labour Development Minister.

There are numerous ways to immigrate to British Columbia as a businessperson:
The Immigrant Investor Program is a federal immigration program for individuals who have a high net worth and business experience.
The Immigrant Entrepreneur Program allows individuals who plan to start or purchase a business in Canada to immigrate and implement their business plan.
The British Columbia Nominee Program also has a business component with a number of requirements applicants must fulfill.
Food of Canada - Buyers Directory & Services Index
Vegetarian Journal's Guide to Natural Foods Restaurants in the U.s. And Canada
Baby Bodysuit White " Canadian Food Makes Canadian Poo ! " Canada Country 9 - 12 Months

Wednesday, May 26, 2010

Saturday, May 8, 2010

حیدرآباد کے حوالہ سے وزیراعظم کے بیان سے لاکھوں شہریوں کی دل شکنی ہوئی، الطاف حسین



ہفتہ, 08 مئی 2010
کراچی- متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنماء اور وزراءاشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان اتحاد کی فضا خراب کرنا چاہتے ہیں۔ حیدرآباد کے حوالہ سے وزیراعظم کے بیان سے لاکھوں شہریوں کی دل شکنی ہوئی ہے لیکن حیدرآباد کے عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں ، وزیراعظم اپنی حلیف جماعت کو اعتماد میں لئے بغیر سندھ کے حوالہ سے کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے گریز کریں۔

الطاف حسین نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے جمہوریت کے نام پر اپیل کی کہ وہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنماوں اور وزراءکی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا فوری نوٹس لیں اور پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان اتحاد ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنائیں۔

یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پررابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرز ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العبادخان، وفاقی وزیربابر خان غوری، صوبائی وزیرعادل صدیقی اور رکن قومی اسمبلی وسیم اختر بھی موجود تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے پاکستان بھر کے جمہوریت پسند اور محب وطن عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم نے ہرمشکل اورآزمائش کی گھڑی میں جمہوریت کی بقاءکیلئے غیرمشروط طور پر حکومت کا ساتھ دیا، اس دوران حکومت کے بعض رہنماءاور وزراءنے اشتعال انگیز بیانات دیئے جس پر ایم کیوایم کے کارکنان کو صبر کی تلقین کی گئی اور جواب میں اشتعال انگیز بیان نہیں دیا گیا۔اب عوام خود فیصلہ کریں کہ حکومت میں شامل رہ کر ایم کیوایم نے کتنا صبر کیا ہے اور اشتعال انگیزی کے باوجود کارکنان کو صبر وتحمل سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم جمہوریت پسند جماعت ہے اور چاہتی ہے کہ حکومت اپنی جمہوری مدت پوری کرے لیکن پیپلزپارٹی کے بعض رہنماءاور وزراءنہیں چاہتے کہ ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کااتحاد برقرار رہے اور ان کی جانب سے اشتعال انگیزبیانات کے ذریعہ اس اتحاد کو توڑنے کی بارہا کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم نے صوبہ خیبر پختونخوا ، ہزاروال، بہاولنگر اورجنوبی پنجاب کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا، صوبہ ہزارہ، صوبہ بہاولنگر اور سرائیکی صوبہ کی حمایت کا اعلان کیاہے ۔ ایم کیوایم نے سندھ کی تقسیم یا کراچی صوبہ کی کوئی بات نہیں کی لیکن حکومت کے بعض وزراءاور ایجنسیوں کے پے رول پر کام کرنے والے نام نہاد قوم پرستوںکی جانب سے واویلا مچایا گیاکہ ایم کیوایم سندھ کی تقسیم چاہتی ہے۔

الطاف حسین نے سندھ کے دانشوروں ، کالم نگاروں ، صحافیوں اور زندگی کے دیگر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم اور سندھ کے امن پسند عوام کی کوششوں سے صوبے میں امن وامان کی فضاءقائم ہے جسے سبوتاژ کرنے کیلئے صرف نام نہاد قوم پرست ہی سازش نہیں کررہے بلکہ اس سازش میںپیپلزپارٹی کے بعض وزراءبھی شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ سندھ میں شہری اور دیہی تفریق کرکے بھائی چارے کی فضاءکو تباہ کیا جائے۔

انہوںنے مزید کہاکہ سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان اتحاد ویکجہتی کی فضاءجاگیرداروں اوروڈیروں کو ایک آنکھ نہیں بھارہی ہے اور وہ سندھ میں سندھی مہاجر فسادات کی سازشیں کررہے ہیں لیکن سندھ کے عوام اپنے اتحاد سے ایسی ہرسازش کو ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین سندھ دھرتی کا بیٹا ہے اور سندھ دھرتی سے غداری نہیں کرے گااور ایم کیوایم سندھ کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتی رہے گی۔

الطاف حسین نے حیدرآباد کے حوالہ سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کے بیان سے حیدرآباد کے لاکھوں شہریوں کی دل آزاری ہوئی ہے لیکن حیدرآباد کے عوام خود کو ہرگز تنہا نہ سمجھیں ۔ الطاف حسین نے جمہوریت کے نام پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے اپیل اپیل کی کہ ایم کیوایم ان کی حلیف جماعت ہے لہٰذا وہ اپنی حلیف جماعت کے رہنماوں کو اعتمادمیں لئے  بغیر سندھ کے حوالہ سے کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے گریز کریں اسی میں جمہوریت کی بھلائی ہے۔

الطاف حسین نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے بعض رہنماوں اور وزراءکی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا فوری نوٹس لیں اور پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان اتحاد ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنائیں تاکہ ملک میں جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے۔

الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ متحد رہیں ، اپنے اتحاد کو مزید مضبوط بنائیں انشاءاللہ ایم کیوایم ، جاگیرداروں ،ملک کی دولت لوٹنے والوں اور سرکاری بنکوں سے اربوں کھربوں روپے قرض لیکر معاف کرانے والے وڈیروں کو ان کی جاگیروں سے نکال کر وہاں اسکول ، کالج اور اسپتال تعمیر کرے گی اور ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کا انقلاب لائے گی۔

Sunday, April 25, 2010

پنجاب کنونشن کے بعد انقلاب مقدر بن چکا ہے۔ الطاف حسین

پنجاب کنونشن کے بعد انقلاب مقدر بن چکا ہے۔ الطاف حسین
روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں نے 62سالوں میں عوام کو کچھھ نہیں دیا،ایم کیو ایم اقتدار میں آکرجاگیر داروں کی زمینیں غریب عوام میں تقسیم کردےگی اوران کی جاگیریں بیچ کر ملک کا قرضہ ادا کیا جائے گا، عوام کو عہد کرنا ہوگا کہ وہ چوروں ، لیٹروں کا ساتھہ نہیں دینگے ، الطاف حسین کسی کا نہیں ،ملک کی دولت لوٹنے والوں کا دشمن ہے۔ پنجاب کے تین شہروں لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں عظیم الشان عوامی اجتماعات سے بیک وقت خطاب کرتے ہو ئےایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین نے کہا کہ اہالیان پنجاب بھی نظم و ضبط برقرار رکھیںآ ج صوبہ پنجاب میں ایم کیو ایم آگئی ہے،آج کے جلسے میں لوگ پاکستان بچانے کے لیے شریک ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ملک میں دوہرا معیار تعلیم رائج ہے۔غریب بچوں کے پیلے اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کیلئے کرسیاں بھی نہیں۔عوام62سالوں سے ظلم کی چکی میں پستے چلے آرہے ہیں ۔ بڑے بڑے قرضے لینے والوں کو ووٹ دینا ہمارا قصور ہے۔ پنجاب کے لوگ بار بار آزمائے ہو ئے لٹیروں کو ووٹ کیوں دے رہے ہو؟ اب عوام کو عہد کرنا ہوگاکہ چور،لٹیروں کا ساتھہ نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے محلات کو اسکول اور اسپتال بنادیا جائے گا۔الطاف حسین کا کہناتھا کہ پنجاب کنونشن کے بعد انقلاب مقدر بن چکا ہے،قسمت بدلنے کیلئے فرشتے نہیں آئیں گے،خود بدلنا ہو گی۔ایم کیو ایم کو پنجاب میں داخل ہونے سے روکا گیا لیکن آج ایم کیو ایم پنجاب میں آگئی ہے ، لیکن کیا پنجاب کے عوام قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں؟الطاف حسین نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کیلئے جدو جہد کرتے رہیں گے اورپنجاب کے سرائیکی خطے اورجنوبی پنجاب کامسئلہ حل کرینگے،نئے صوبوں کی تشکیل سے ملک کمزور نہیں مضبوط ہو گا،الطاف حسین کسی کا نہیں ،ملک کی دولت لوٹنے والوں کا دشمن ہے، ہم علامہ اقبال کی صحیح فکر کو لے کر چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کشمیریوں کا مسئلہ حل کرے گی ، مسئلہ کشمیراسوقت حل ہوگاجب کشمیری مذاکرات میں شامل ہونگے۔

Saturday, April 24, 2010

پنجاب کنونشن کی تیاریاں عروج پر

لاھور۔ متحدہ قومی موومنٹ کے زیراہتمام پنجاب کے تین شہروں میں کل بروزاتوار ہونے والے تاریخی کنونشن کے لئے لاھورمیں بھی تیاریاں جاری ہیں ،شہرمیں جگہ جگہ ایم کیوایم کے جھنڈے اوراستقبالی بینر لگادئیے گئے ہیں ۔لاھور کے الحمراہال ون میں ہونے والے پنجاب ورکرز کنونشن کے سلسلے میں تیاریاں جاری ہیں ۔ کنونشن کاآغاز تین بجے سہ پہر ہوگا اورقائد تحریک الطاف حسین لاھور،راولپنڈی اورملتان میں ہونے والے کنونشن سے خطاب کریں گے۔ اس مقصد کے لئے ہال میں اسکرینیں بھی نصب کی گئی ہیں جبکہ استقبالی بینروں کے علاوہ قائد تحریک الطاف حسین کی تصاویربھی ہال میں آویزاں کی جارہی ہیں۔ کل ہونے والے ورکرز کنونشن کے سلسلے میں آج متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما لاھور کے مختلف علاقوں میں کارنرمیٹنگزسے خطاب کررہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار،سابق ناظم کراچی مصطفی کمال اورصوبائی وزیرفیصل سبزواری سمیت متعددارکان رابطہ کمیٹی ان کارنرزمیٹنگ سے خطاب کررہے ھیں۔ مقامی ہوٹل میں شام کوایک استقبالیہ بھی دیاجائے گا۔ کنونشنز کے حوالے سے لاہور اور ملتان میں بھی بہت بڑی ریلیاں نکالی گئیںجن میں عوام اورخصوصا نوجوانوں نے شرکت کی-

Thursday, April 22, 2010

شہباز شریف کی دھمکی کام کر گئی۔ کراچی کیلئے بجلی کا کوٹہ نصف کردیاگیا

انرجی کانفرنس میں کئے گئے فیصلے کے مطابق کراچی کیلئے پیپکو سے منظورشدہ کوٹے میں تین سو میگا واٹ کی تخفیف کردی گئی ہے- چند روز پہلے وزیراعلی پنجاب نے انرجی کرائسس پر سخت بیان دیتےھوئے کراچی کو پیپکو سے ملنے والے بجلی کے کوٹے پر بھی سخت تنقید کی تھی اورسخت اقدامات کی دھمکی دی تھی۔ شھباز شریف کی بلیک میلنگ کے آگے ہتھیار ڈالتے ھوئے انرجی کانفرنس میں یہ کراچی دشمن فیصلہ کیا گیا ھے جس پر کراچی کے شھریوں نے سخت ردعمل کا اظھار کیا ھے۔  

Wednesday, April 21, 2010

انقلاب راتوں رات نہیں آیاکرتا،اس کیلئے برسوں جدوجہدکرنا پڑتی ہے۔ الطاف حسین

لندن: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ کسی بھی خطے میں انقلاب راتوں رات یااچانک نہیں آیاکرتابلکہ اس کیلئے برسوں جدوجہدکرنا پڑتی ہے ۔ جوانقلاب راتوں رات آیاکرتے ہیں وہ راتوں رات چلے بھی جایاکرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات آج پنجاب کے کئی صحافیوں اوردانشوروں سے ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت کے دوسرے دورمیں کیا۔ الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ملک کی واحدجماعت ہے جوواقعتاً موروثی اورخاندانی سیاسی کلچر کے خلا ف ہے ۔ایم کیوایم الطاف حسین کے خاندان کی جماعت نہیں بلکہ عوام کی جماعت ہے جس کی جدوجہدمیں جانوں کی قربانیاں دینے والوں میں الطاف حسین کے خاندان کے افرادشامل ہیں لیکن اسمبلیوں میں پہنچنے والوں میں الطاف حسین یااسکے خاندان کے افرادشامل نہیں ہیں۔ انہوں نے عوام میں شعوری بیداری کے سلسلے میں پنجاب کے صحافیوں اور دانشوروں کی خدمات کو سراہا اورکہاکہ ملک میں انصاف کے نظام کیلئے ملک بھر کے اہل قلم حضرات کوبھی عوامی انقلاب کیلئے اپنااپناکردار ادا کرناہوگا۔

الطاف حسین کبھی بھی الیکشن نہیں لڑیں گے

لاہور: رابطہ کمیٹی کے رکن و سابق سٹی ناظم کراچی مصطفی کمال نے کہا ہے کہ الطاف حسین وہ واحد پاکستانی سیاسی لیڈر ہیں جنہوں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ کبھی بھی الیکشن نہیں لڑیں گے بلکہ عوام کی رہنمائی اور قیادت کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کرائیں گے اور ملک کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ بنائیں گے۔ الطاف حسین نے متحدہ قومی موومنٹ بنا کر عوام کی طاقت اور حمایت کے ذریعے مجھہ جیسے غریب کارکنوں کو گورنر، وزیر، مشیر، ایم این ایز، ایم پی ایز اور ناظمین بنایا اور اس سیاسی کلچر کے خاتمے کا راستہ بتایا جو سیاسی پارٹیوں نے بنا رکھا ہے۔

Sunday, April 18, 2010

پورٹ گرینڈ فوڈاسٹریٹ دوماہ میں عوام کیلئے کھول دی جائیگی- بابر غوری

وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ بابر خان غوری نے کہا ہے کہ نیٹی جیٹی برج سے متصل جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی فوڈ اسٹریٹ ” پورٹ گرینڈ“ 2 ماہ کے اندر عوام کیلئے کھول دی جائے گی۔ اتوار کو کراچی میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور صوبائی وزیر بلدیات آغا سراج درانی کو مذکورہ فوڈ اسٹریٹ کا دورہ کرانے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں بابرغوری نے بتایا کہ ایک ارب روپے کی پرائیویٹ سرمایہ کاری سے یہ منصوبہ کراچی پورٹ ٹرسٹ ( کے پی ٹی ) کی 13ایکڑ زمین پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی کے عوام کیلئے بہت بڑا تحفہ ہوگا اور فوڈ اسٹریٹ پاکستان میں بین الاقوامی معیار کی پہلی تفریح گاہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے کام کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ گورنر نے منصوبے کے ڈیزائن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کی مکمل تزئین و آرائش کے بعد پورٹ گرینڈ نہایت دیدہ زیب نظارہ پیش کرے گا۔ اس موقع پر گورنر نے منصوبے کی تعمیر کرنے والی فرم کے چیف ایگزیکٹو شاہد فیروز کی کوششوں کو بھی سراہا۔ وفاقی وزیر بابر غوری نے کہا کہ یہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی فوڈ اسٹریٹ ثابت ہوگی اور اس منصوبے کا افتتاح 2 ماہ کے عرصے میں کر دیا جائے گا۔ صوبائی وزیر آغا سراج درانی نے کہا کہ اس منصوبے کی تعمیر خوش آئند بات ہے، اس سے عوام کو تفریح کے صحت مند مواقع حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس زمین کا بہت بہتر استعمال کیا گیا ہے جو اس سے پہلے قبضہ گروپوں اور منشیات فروشوں کے قبضے میں تھی۔